پشاور (متنی): پشاور کے نواحی علاقے متنی میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں وراثتی تنازع اور گھریلو اختلافات کے باعث ایک خاتون اور اس کے شیرخوار بچے کو بے دردی سے قتل کر کے لاشیں خشک کنویں میں پھینک دی گئیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ سعدیہ نے حال ہی میں حکیم خان نامی شخص سے کورٹ میرج کی تھی، جو اس کی دوسری جبکہ ملزم کی تیسری شادی تھی۔ سعدیہ کا 9 ماہ کا بیٹا اس کی پہلی شادی سے تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتولہ گھریلو تنازعات کے باعث چند روز قبل اپنے میکے چلی گئی تھی۔
واقعے کے روز ملزم حکیم خان اپنی بیوی کو منا کر واپس گھر لایا، جہاں اسے اور اس کے کمسن بچے کو قتل کر کے لاشیں قریبی خشک کنویں میں چھپا دی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک دوہرے قتل میں ملزم کا سوتیلا بیٹا اور ایک دوست بھی ملوث ہیں۔
دورانِ تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ اس کے بیٹے نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مقتولہ وراثت میں حصہ مانگ سکتی ہے، جس پر لالچ اور خوف کے باعث یہ سنگین جرم کیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔