بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باوجود زرمبادلہ ذخائر میں بہتری متوقع، اسٹیٹ بینک

ریاض حسین

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بیرونی قرضوں کی مقررہ ادائیگیوں کے باعث گزشتہ ہفتے سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں 1.305 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم جون کے اختتام تک ذخائر میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 19 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر 15.916 ارب ڈالر رہ گئے۔ یہ کمی بیرونی قرضوں کی شیڈول کے مطابق ادائیگیوں کے باعث ہوئی۔

مرکزی بینک کے مطابق بعد ازاں حکومتِ پاکستان کو ایک کثیرالجہتی مالیاتی ادارے سے 70 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، جبکہ حکومت کے کمرشل قرضے کی ری فنانسنگ کی مد میں مزید 1.7 ارب ڈالر حاصل ہوئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ مجموعی 2.4 ارب ڈالر کی آمد 30 جون 2026 کو زرمبادلہ ذخائر میں شامل ہو جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان رقوم کی شمولیت کے بعد اسٹیٹ بینک کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، جبکہ ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر بھی تقریباً 24 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رپورٹنگ ہفتے کے دوران پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 1.257 ارب ڈالر کم ہو کر 21.484 ارب ڈالر رہے، جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر اضافے کے بعد 5.568 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جون 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر کا ہدف حاصل ہونے کی توقع ہے، جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ اہداف کے مطابق ہے۔

مرکزی بینک نے آئندہ مالی سال کے حوالے سے بھی امید ظاہر کی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر مضبوط رہیں گی اور مالی سال 2026-27 کے دوران ترسیلات تقریباً 42 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے بیرونی شعبے پر دباؤ کم رکھنے میں مدد ملے گی، اگرچہ توانائی کی درآمدات میں اضافے کے باعث جاری کھاتے کا خسارہ کسی
حد تک بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے