خبر رساں ایجنسی
اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف پیشگی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا، جس کے بعد تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری سفارتی کوششیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد “ریاستِ اسرائیل کو درپیش خطرات کا خاتمہ” ہے۔ ادھر امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے بھی جاری ہیں۔ رائٹرز کو ذرائع نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو تہران سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اصفہان، قم، کرج اور کرمانشاہ سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ تہران میں بھی زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ تازہ کارروائی جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ پہلے ہی متنبہ کر چکے تھے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو مزید فوجی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں کی جا رہی تھی اور حملے کی تاریخ کا فیصلہ چند ہفتے قبل کیا گیا۔ ایران میں دھماکوں کی اطلاعات کے فوراً بعد اسرائیل بھر میں صبح تقریباً 8 بج کر 15 منٹ پر سائرن بجا دیے گئے۔
اسرائیلی فوج نے اسے ممکنہ میزائل حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر احتیاطی اقدام قرار دیا۔ اسرائیلی حکام نے تعلیمی ادارے اور غیر ضروری دفاتر بند کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ ملک کی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی گئی۔
ائیرپورٹس اتھارٹی نے عوام کو ائیرپورٹس کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران نے فروری میں جوہری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے تاکہ خطے کو ممکنہ فوجی تصادم سے بچایا جا سکے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف یورینیم افزودگی کی حد بندی کافی نہیں، بلکہ ایران کے جوہری ڈھانچے کا مکمل خاتمہ بھی ضروری ہے۔ اسرائیل نے ایران کے میزائل پروگرام کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب تہران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر کچھ قدغنیں قبول کرنے کو تیار ہے، تاہم میزائل پروگرام کو مذاکرات سے جوڑنے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور دفاع کیا جائے گا اور خطے میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جون میں امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی کارروائی میں شمولیت اختیار کی تھی، جسے ایران کے خلاف اب تک کی سب سے براہِ راست امریکی فوجی مداخلت قرار دیا گیا۔
اس کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئربیس کی جانب میزائل داغے تھے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اسے ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ایران ایٹم بم بنانے کے الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔