پاکستان میں آبی بحران شدت اختیار کر گیا — زیرِ زمین پانی آلودہ، نہری نظام متاثر، زرعی زمین تباہی کے دہانے پر

تحریر: انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی

پاکستان اس وقت ایک سنگین آبی بحران سے گزر رہا ہے جہاں نہری نظام کی آلودگی، زیرِ زمین پانی کی تیزی سے کمی اور زرعی زمین کی تباہی قومی سطح کا خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق جو نہری نظام کبھی زرعی ترقی اور انسانی بقا کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، آج صنعتی فضلے، سیوریج اور کیمیکل کے اخراج کے باعث شدید آلودگی کا شکار ہے۔

تحقیقی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں زیرِ زمین پانی کا بڑا حصہ پینے کے لیے غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں پانی کی نمکیت بڑھنے سے زرعی زمین کی زرخیزی متاثر ہو رہی ہے جبکہ شہری مراکز میں پانی کی سطح 300 سے 500 فٹ تک نیچے جا چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نہروں میں صنعتی فضلہ، ہسپتالوں اور ہاؤسنگ سکیموں کا بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج شامل ہونے سے پانی کی کوالٹی خطرناک حد تک گر چکی ہے۔ یہ آلودہ پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین ذخائر کو متاثر کرتا ہے اور پھر ٹیوب ویل کے ذریعے انسانی استعمال میں آتا ہے، جس سے صحت کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ جلدی امراض، معدے کی بیماریاں، جگر اور گردوں کے مسائل سمیت کینسر کے خطرات میں اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں فیلڈ مشاہدات کے دوران مقامی آبادی نے شکایت کی کہ جو نہری پانی کبھی پینے اور گھریلو استعمال کے قابل تھا، وہ اب سیوریج اور کیمیکل کی آمیزش کے باعث ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے۔ صنعتی علاقوں خصوصاً ماربل فیکٹریوں سے خارج ہونے والا کیمیکل ملا پانی زرعی زمینوں کو ناقابلِ کاشت بنا رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری سائنسی اور انتظامی اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں پینے کے پانی، زرعی پیداوار اور انسانی صحت کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب، صنعتی فضلے پر سخت کنٹرول، زیرِ زمین پانی کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ اور جدید آبپاشی نظام کو فوری ترجیح دی جائے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پانی کا تحفظ دراصل قومی بقا کا تحفظ ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے ریاستی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ پانی اور زرخیز زمین فراہم کی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے