داخلی طلب سے پاکستان کی مینوفیکچرنگ کو سہارا، برآمدات میں مسلسل کمی پر تشویش

پشاور — پاکستان کے لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) شعبے نے نومبر میں غیر متوقع طور پر 10.37 فیصد کی دوہرے ہندسے کی ترقی ریکارڈ کی، جس کی بنیادی وجہ آٹوموبائل، پیٹرولیم مصنوعات، گارمنٹس اور سیمنٹ کے شعبوں کی بہتر کارکردگی رہی۔ تاہم اس مثبت رجحان کے باوجود ملک کو برآمدات میں مسلسل کمی جیسے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران ایل ایس ایم شعبے میں مجموعی طور پر 6.01 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر صنعتی پیداوار میں 0.16 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو قلیل مدت میں استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔
ترقی کی رفتار میں سب سے بڑا کردار گارمنٹس، آٹوموبائل، پیٹرولیم مصنوعات اور سیمنٹ کے شعبوں کا رہا، جنہوں نے مجموعی نمو میں نمایاں حصہ ڈالا۔ کوانٹم انڈیکس میں آٹوموبائل شعبے کا حصہ 1.77 پوائنٹس، پیٹرولیم مصنوعات کا 1.29 پوائنٹس، گارمنٹس کا 1.24 پوائنٹس اور سیمنٹ کا 0.78 پوائنٹس رہا۔ اس کے علاوہ خوراک، ٹیکسٹائل، الیکٹریکل آلات اور پیپر و بورڈ کی صنعتوں نے بھی معتدل مثبت کردار ادا کیا۔
سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو جولائی تا نومبر کے دوران کئی اہم شعبوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں آٹوموبائل کی پیداوار میں غیر معمولی طور پر 75 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح کوک اور پیٹرولیم مصنوعات میں 18.06 فیصد، سیمنٹ میں 13.47 فیصد اور گارمنٹس میں 7.14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ خوراک و مشروبات، تمباکو، ربڑ مصنوعات، نان میٹلک منرل مصنوعات، تیار شدہ دھاتی اشیاء، الیکٹرانکس اور الیکٹریکل آلات کے شعبوں میں بھی بہتری دیکھی گئی۔
تاہم یہ صنعتی بحالی یکساں نہیں رہی۔ کیمیکلز، فارماسیوٹیکلز، آئرن و اسٹیل مصنوعات، مشینری و آلات، لیدر مصنوعات اور فرنیچر جیسے اہم شعبے بدستور منفی شرح نمو کا شکار رہے، جو ساختی مسائل اور کمزور بیرونی طلب کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق درآمدات میں کمی اور مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات پر بڑھتے ہوئے انحصار نے وقتی طور پر گھریلو پیداوار کو سہارا دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ برآمدات میں مسلسل پانچویں ماہ بھی کمی کا رجحان ایل ایس ایم شعبے کی پائیدار ترقی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26 کے پہلے نصف (جولائی تا دسمبر) کے دوران برآمدی آمدن میں 8.70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں برآمدات 15.18 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 16.63 ارب ڈالر تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک برآمدات میں نمایاں بہتری نہیں آتی، موجودہ صنعتی تیزی طویل المدتی معاشی استحکام میں تبدیل ہونا مشکل رہے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے