سی بی این رپورٹ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران مجموعی طور پر 7,176 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کی، جو مقررہ ہدف 7,521 ارب روپے کے مقابلے میں 345 ارب روپے کم ہے،
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 کے دوران ایف بی آر نے 1,015 ارب روپے وصول کیے جبکہ ماہانہ ہدف 1,030 ارب روپے تھا، اس طرح 15 ارب روپے کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ہدف سے قدرے کم وصولی کے باوجود جنوری میں ماہ بہ ماہ بنیاد پر 16 فیصد کی مضبوط شرحِ نمو دیکھی گئی، جو گزشتہ چھ ماہ کی اوسط 10 سے 11 فیصد شرحِ نمو سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ رجحان رواں مالی سال کے باقی مہینوں کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عارضی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جنوری میں 873 ارب روپے کے مقابلے میں رواں سال جنوری میں وصولیاں بڑھ کر 1,015 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جو مضبوط بحالی کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ٹیکس وصولیاں بڑھ کر 7,176 ارب روپے ہو گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ وصولیاں 6,490 ارب روپے تھیں۔
ایف بی آر کے مطابق جنوری کی ٹیکس کارکردگی مالیاتی لحاظ سے نہایت اہم ہے، جس میں براہِ راست ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ، بالواسطہ اور ایکسائز ٹیکسوں میں معتدل نمو اور مجموعی طور پر ریونیو کی بہتر کارکردگی شامل ہے۔ ان نتائج سے ایف بی آر کے اصلاحات پر مبنی ریونیو ٹرانسفارمیشن ایجنڈے کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
جنوری میں انکم ٹیکس کی وصولیاں 483 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے 381 ارب روپے کے مقابلے میں 26 فیصد کا شاندار اضافہ ہے۔ ایف بی آر کے مطابق اس بہتری کی بڑی وجہ مؤثر نفاذی اقدامات اور عدالتی تنازعات میں پھنسے ہوئے محصولات کی وصولی کے لیے مربوط کوششیں ہیں۔
اسی طرح جنوری کے دوران سیلز ٹیکس کی وصولیاں 360 ارب روپے رہیں، جو گزشتہ سال کے 322 ارب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں بحالی اور بہتری کی علامت ہے، جو آئندہ ریونیو کارکردگی کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جنوری کے نتائج اس کی اصلاحات پر مبنی حکمتِ عملی کی توثیق کرتے ہیں، بالخصوص ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے استعمال اور ہدفی نفاذی اقدامات کے ذریعے ٹیکس تعمیل کو بہتر بنانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں اضافے کے حوالے سے۔ براہِ راست ٹیکسوں میں مضبوط کارکردگی کو رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کی جانب رویوں میں مثبت تبدیلی کا عندیہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر نے امید ظاہر کی ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں بحالی کا عمل جاری رہے گا، جس سے آئندہ مہینوں میں ریونیو میں مزید اضافہ ممکن ہوگا۔ ادارے نے رواں مالی سال کے لیے مقررہ ریونیو اہداف کے حصول اور موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے