پشاور: پاکستان پانی کے بحران کا شکار ہے، جہاں زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے، صاف پینے کے پانی کی کمی ہے اور فلڈ واٹر ضائع ہو رہا ہے، جبکہ پانی کے انتظام کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ یہ حقائق انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی، چیئرمین گرین موومنٹ زرغون تحریک کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 5260 مکعب میٹر سے کم ہو کر تقریباً 900 مکعب میٹر رہ گئی ہے اور 2030 تک یہ 500 مکعب میٹر سے کم ہو جائے گی، جسے عالمی سطح پر شدید پانی کی قلت (Absolute Water Scarcity) کہا جاتا ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح پنجاب، اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ میں سالانہ 1–6 میٹر نیچے جا رہی ہے اور گزشتہ آٹھ سالوں میں زیرِ زمین پانی میں 5.66 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔
پاکستان میں صرف 15 فیصد آبادی کو صاف پینے کا پانی دستیاب ہے، جبکہ پانی کے ذخائر کم اور زیرِ زمین ریچارج محدود ہے۔ اس دوران ہر سال 60–90 MAF پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے، جو پینے کے پانی، زراعت اور زیرِ زمین ریچارج کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔
رپورٹ میں بین الاقوامی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل، مصر، سعودی عرب، امریکہ اور آسٹریلیا میں فلڈ یا بارش کے پانی کو ذخیرہ اور زیرِ زمین ریچارج کے ذریعے زمین کو زرخیز بنایا گیا ہے، جس سے زرعی پیداوار اور پینے کے پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوا۔
انجینئر یوسفزئی نے پاکستان کے لیے عملی حل بھی تجویز کیے ہیں، جن میں فلڈ واٹر ڈائیورژن اور ایکویفر ریچارج، کم لاگت والی واٹر ہارویسٹنگ ٹیکنالوجیز، پہاڑی چشموں اور پینے کے پانی کی حفاظت، ادارہ جاتی اصلاحات اور کمیونٹی کی شمولیت شامل ہیں۔ رپورٹ میں قومی فلڈ واٹر مینجمنٹ پروگرام، زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور ریچارج زونز، پانی کے معیار کی نگرانی، اور عوامی شعور میں اضافہ کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر فوری اور مضبوط پالیسی، مؤثر مینجمنٹ اور ریاستی فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں صاف پانی اور صحت مند ماحول سے محروم ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کا مقصد حکومت، سرکاری اداروں، میڈیا اور عوام کے لیے ایک عملی رہنما فراہم کرنا ہے تاکہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
پاکستان پانی کے شدید بحران : فلڈ واٹر ضیاع اور پالیسی تجاویز پر تحقیقاتی رپورٹ