پشاور: خیبرپختونخوا میں فضائی آلودگی کے خاتمے اور اسموگ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی حکومت اور عالمی بینک کی تکنیکی ٹیم نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔
ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس کی صدارت سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جنید خان نے کی، جبکہ سپیشل سیکرٹری طلحہ حسین فیصل، ایڈیشنل سیکرٹری احمد کمال، رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی اور محکمہ تحفظ ماحولیات کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں عالمی بینک کی تکنیکی ٹیم کے رکن شفیق نے ایئرشیڈ بیسڈ اپروچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی انتظامی حدود کی پابند نہیں ہوتی اور اس کے اثرات ہواؤں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچتے ہیں، اس لیے علاقائی اور سرحد پار تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار نتائج کے لیے ٹرانسپورٹ، توانائی، صنعت، زراعت، شہری منصوبہ بندی اور مقامی حکومتوں سمیت تمام شعبوں کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگی سے کام کرنا ہوگا۔
شفیق کے مطابق سال 2035 تک ذراتی آلودگی میں 35 فیصد کمی کا ہدف حقیقت پسندانہ اور قابلِ حصول ہے، بشرطیکہ مربوط پالیسی اقدامات، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی شمولیت کو یکجا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف سے عوامی صحت، موسمیاتی مزاحمت اور معاشی استحکام میں نمایاں بہتری آئے گی۔
عالمی بینک ٹیم نے سیٹلائٹ پر مبنی مانیٹرنگ کے نتائج بھی پیش کیے، جن کے مطابق وادیٔ پشاور صوبے کے اُن علاقوں میں شامل ہے جہاں پی ایم 2.5 کی بلند سطح انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
اجلاس میں پاکستان کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی 2025 تا 2035 کے تحت گریٹر پشاور–حیات آباد–فرنٹیئر کوریڈور میں آلودگی کے مشترکہ ذرائع کی نشاندہی اور کنٹرول اقدامات پر بھی غور کیا گیا، جن میں صاف ایندھن کا فروغ، گاڑیوں کے اخراجی معیارات، صنعتی ضابطہ بندی اور بہتر ویسٹ مینجمنٹ شامل ہیں۔
سیکرٹری جنید خان نے حکومتِ خیبرپختونخوا کے صاف ہوا کے ایجنڈے سے مکمل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی بینک کو بھرپور ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی اور رابطہ کاری کے لیے سپیشل سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو فوکل پرسن نامزد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں فضائی معیار کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔
اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی نے کہا کہ فضائی آلودگی ایک بڑا عوامی صحت اور ماحولیاتی چیلنج بن چکی ہے، اور حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ پالیسی سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا اور عالمی بینک کا مشترکہ اسموگ ایکشن پلان، صاف ہوا کے لیے جامع حکمتِ عملی پر اتفاق