افغان علما کا متفقہ فتویٰ: بیرونِ ملک عسکری کارروائیاں حرام قرار

کابل/پشاور — افغانستان کے مختلف صوبوں سے جمع ہونے والے ہزاروں دینی علما، مفتیان اور مشایخ نے ایک بڑے اجتماع کے اختتام پر ایک تفصیلی فیصلہ نامہ جاری کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امیرالمؤمنین ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان سے باہر کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی کی اجازت نہیں دی، اور اگر کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا تو طالبان اس کا راستہ روکیں گے۔

فیصلہ نامے میں طالبان کی موجودہ حکومت کو شرعی نظام قرار دیتے ہوئے اس کی اطاعت، حمایت اور دفاع کو افغان عوام پر مذہبی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ علما نے زور دیا کہ شرعی نظام کی حفاظت مسلمانوں پر لازم ہے اور امیر کے حکم کے بغیر جنگ کرنا بغاوت کے مترادف ہے۔

دستاویز کی ایک اہم شق میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف مسلح کارروائی کے لیے استعمال کرنا شرعی امیر کی نافرمانی ہے—جسے مبصرین ٹی ٹی پی اور پاکستان میں ہونے والے حملوں کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں۔

علما نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر افغانستان پر بیرونی جارحیت ہو تو اس کی دفاع کرنا فرضِ عین اور مقدس جہاد ہوگا، مگر امیر کے حکم کے بغیر کسی قسم کی مسلح سرگرمی دین کی رُو سے بغاوت ہے۔

اگرچہ اس فیصلے میں پاکستان کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا، مگر گزشتہ مہینوں میں طالبان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس پیغام کو واضح طور پر اسلام آباد کے لیے اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستانی مذہبی قیادت کا ردِعمل: افغان علما کے فیصلے کا خیر مقدم

پشاور میں خیبر پختونخوا کے سرکاری خطیب، تاریخی مسجد مہابت خان کے امام، اور جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا محمد طیب قریشی نے افغان علما کے اس فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔

مولانا طیب قریشی نے کہا کہ افغان علما نے بالکل واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال حرام ہے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں “باغی” قرار دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بہتر بنائے گا اور کشیدگی کے خاتمے میں مدد دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغان حکومت سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

مولانا طیب قریشی نے کہا:

“پاکستان نے افغان بھائیوں کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔”

“پاکستانی حکومت اور دینی مدارس نے طالبان کی ہر سطح پر مدد کی، مگر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ توقعات پوری نہ ہو سکیں جن کی امید تھی۔”

انہوں نے افغان طالبان کو خبردار کیا کہ سخت رویہ اور ضد کی پالیسی سب سے زیادہ نقصان ان کی اپنی حکومت کو پہنچائے گی، جبکہ فائدہ ان گروہوں کو ہوگا جو افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے منتظر ہیں۔

افغانستان اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعلقات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا قریشی نے اسے کشمیر اور گجرات کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جب افغانستان کا وزیرِ تجارت بھارت کے دورے پر تھا، اسی دن بھارتی وزیر اعظم مودی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کے افتتاح کا جشن منایا، جس پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج تھے۔

آخر میں مولانا طیب قریشی نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام ممالک—بالخصوص افغانستان اور پاکستان—خطے میں امن، استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو اچھے ہمسایہ اصول برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے، تاکہ آنے والی نسلیں ان مشکلات سے بچ سکیں جن کا آج خطہ سامنا کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے