محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ڈی ایچ کیو ہسپتال لکی مروت میں غفلت اور بدانتظامی پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سمیت متعدد ڈاکٹرز اور عملے کے خلاف سخت اقدامات اٹھا لیے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے پر 61 ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ غیر حاضر عملے کے خلاف ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن (E&D) رولز 2011 کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال سٹور سے زائد المیعاد ادویات برآمد ہونے پر ذمہ دار اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایم ایس ڈاکٹر اکبر زمان، ڈاکٹر محمد اسماعیل اور ڈاکٹر وقاص احمد کو عہدوں سے ہٹا کر ڈی جی ہیلتھ آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر اختر زمان کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کا اضافی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر عمر حیات کو نیا ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تعینات کیا گیا ہے۔ مزید برآں ڈاکٹر جان بہادر کو بھی ڈی ایم ایس کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غفلت، کوتاہی اور بدانتظامی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا نے ڈی ایچ کیو ہسپتال لکی مروت کا اچانک دورہ کیا تھا، جہاں ادویات کی عدم فراہمی اور ناقص سہولیات پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
لکی مروت ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بڑی کارروائی، 61 ملازمین معطل