خیبر پختونخوا میں میڈیکل ٹورازم کا آغاز، غیر ملکی مریضوں کے لیے فوری ویزہ سہولت

پشاور (اچتشام طورو): وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے سیاحتی وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صوبائی حکومت نے میڈیکل ٹورازم کے فروغ کے سلسلے میں ٹھوس اور انقلابی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس ضمن میں وسطی ایشیاء سمیت تمام غیر ملکی مریضوں کو فوری ویزہ سہولت کی فراہمی اور طورخم بارڈر پر خصوصی ہیلپ ڈیسک کے قیام کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے تاکہ خیبر پختونخوا آنے والے مریضوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔

اس حوالے سے محکمہ سیاحت و ثقافت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اور محکمہ صحت کا مشترکہ اجلاس محکمہ سیاحت کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان اور سیکرٹری ثقافت، سیاحت و آثارِ قدیمہ و عجائب گھر ڈاکٹر عبدالصمد نے کی۔ اجلاس میں دونوں محکموں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں میڈیکل ٹورازم کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور ہر سال امریکہ، یورپ، وسطی ایشیائی ممالک بلخصوص افغانستان سے بڑی تعداد میں مریض علاج معالجہ کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا کا رخ کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے نہ صرف صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے بلکہ ان غیر ملکی مریضوں کو عالمی معیار کی طبی سہولتیں بھی فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پشاور کے چار بڑے ہسپتالوں، جن میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز، پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور برن سنٹر پشاور میں بستروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا تاکہ بڑھتی ہوئی مریضوں کی تعداد کو بطریق احسن سنبھالا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے محکمہ سیاحت جلد ہی ایک جامع سمری تیار کرکے محکمہ صحت اور محکمہ داخلہ کے ذریعے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ارسال کرے گا تاکہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے