مہنگائی میں غیر متوقع تیزی، اپریل 2026 میں شرح 10.9 فیصد تک جا پہنچا

سی بی این 247

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS) کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح (ہیڈ لائن انفلیشن) 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو وزارت خزانہ پاکستان کے 8 سے 9 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) 7.3 فیصد تھا، جبکہ اپریل 2025 میں یہ شرح محض 0.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ماہانہ بنیادوں پر اپریل 2026 میں مہنگائی میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جو مارچ کے 1.2 فیصد اضافے سے زیادہ ہے، جبکہ گزشتہ سال اپریل میں 0.8 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔

رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران اوسط مہنگائی 6.19 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.73 فیصد تھی۔
شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح اپریل میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 10.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مہنگائی کا دباؤ ملک بھر میں یکساں طور پر بڑھ رہا ہے۔

مہنگائی میں اضافے کی وجوہات

ماہرین اور حکومتی تجزیوں کے مطابق مہنگائی میں اس تیزی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں:
مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹیں
خوراک اور رہائش کے اخراجات میں نمایاں اضافہ
کم بیس ایفیکٹ (گزشتہ سال کی کم مہنگائی کے مقابلے میں موجودہ اضافہ زیادہ دکھائی دینا)
پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ
روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت میں اضافہ
پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کا بوجھ

مہنگائی میں اضافے کی ایک اہم وجہ ایندھن کی قیمتیں بھی ہیں، جہاں عوام جو فی لیٹر قیمت ادا کر رہی ہے، اس کا بڑا حصہ ٹیکسز اور لیویز پر مشتمل ہے:
پٹرول (فی لیٹر)کل قیمت میں تقریباً 32 فیصد ٹیکس

مجموعی ٹیکس: 129.72 روپے

تفصیل: کسٹم ڈیوٹی: 23.72 روپے

پٹرولیم لیوی: 103.50 روپے
کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2.50 روپے
ہائی اسپیڈ ڈیزل (فی لیٹر)
کل قیمت میں تقریباً 21 فیصد ٹیکس
مجموعی ٹیکس: 82.81 روپے

تفصیل:
کسٹم ڈیوٹی: 51.62 روپے
پٹرولیم لیوی: 28.69 روپے
کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2.50 روپے
پالیسی ردعمل

مہنگائی میں اس غیر متوقع اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے مانیٹری پالیسی کو سخت کرتے ہوئے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے، تاکہ طلب کو کم کیا جا سکے اور مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں لایا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن، خوراک اور درآمدی اخراجات میں کمی نہ آئی تو آنے والے مہینوں میں بھی مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جس سے عام شہریوں کی قوت خرید مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے