مردان میں ترقیاتی و تعلیمی منصوبوں کا آغاز: آئی ٹی سنٹر، سولرائزیشن اور سیوریج پلانٹ کا افتتاح

مردان: خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے مردان میں تعلیم، توانائی اور بلدیاتی شعبوں سے متعلق متعدد اہم منصوبوں کا افتتاح کر دیا۔ ان منصوبوں کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، جامعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور شہری سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔

ویمن یونیورسٹی مردان میں یو این ویمن اور کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (KOICA) کے تعاون سے قائم کثیر المقاصد آئی ٹی ٹریننگ سنٹر کا افتتاح کیا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ کے مطابق اس سنٹر کے ذریعے طالبات جدید ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کر کے گھروں سے باعزت روزگار کما سکیں گی۔ یو این ویمن کی نمائندہ زینب قیصر خان نے اس اقدام کو خواتین کی مالی خودمختاری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

تقریب میں اراکین اسمبلی طفیل انجم اور عبدالسلام آفریدی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے اپنے خطاب میں بتایا کہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کا بجٹ 24 ارب روپے سے بڑھا کر 50 ارب روپے کر دیا ہے جبکہ جامعات میں کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس اور روبوٹکس جیسے جدید مضامین متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں مینا خان آفریدی نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 35 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے بتایا کہ اس منصوبے سے یونیورسٹی کو ماہانہ تقریباً 4 ملین روپے بجلی کے بل میں بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں ڈیجیٹلائزیشن کے تحت بلیک بورڈ اور ای آر پی سسٹمز نافذ کیے جا چکے ہیں جبکہ تحقیقی منصوبوں کی کمرشلائزیشن بھی متوقع ہے۔

دورے کے دوران صوبائی وزیر نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور فش فارمنگ پراجیکٹ پر جاری تحقیق کے حوالے سے بریفنگ لی۔ اس موقع پر ظاہر شاہ طورو نے یونیورسٹی میں آڈیٹوریم اور ہاسٹل کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 223 ملین روپے فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

علاوہ ازیں مردان میں 9.3 ارب روپے کی لاگت سے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (WSSCM) کے نئے دفتر کا افتتاح بھی کیا گیا۔ وزیر بلدیات کے مطابق اس منصوبے سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور صاف پانی کے ذخائر محفوظ ہوں گے، جبکہ اسے جنوری 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔

مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں توانائی کی بچت کے لیے شمسی توانائی پالیسی نافذ کر رہی ہے اور بلدیاتی اداروں کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیتے ہوئے عوام سے تعاون کی اپیل کی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹلائزیشن اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کر کے ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے