سی بی این 247
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 24 حلقوں کے غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 6 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور 7 نشستیں اپنے نام کیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ دو نشستیں بھی شامل ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
گلگت بلتستان اسمبلی مجموعی طور پر 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ 6 نشستیں خواتین اور 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس و پیشہ ور افراد کے لیے مخصوص ہیں۔ مخصوص نشستوں کی تقسیم سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ نشستوں کے تناسب سے کی جائے گی۔
اتوار کو ہونے والے انتخابات کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا۔ گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 تھی، جن میں 5 لاکھ 66 ہزار 97 مرد اور 3 لاکھ 96 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل تھیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کے فارم 45 کی فراہمی میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر فارم 45 بروقت فراہم نہیں کیے گئے، جس پر الیکشن حکام سے رابطہ کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے بھی فارم 45 کے اجرا میں تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں میں تبدیلیاں اور بعض پولنگ اسٹیشنوں کی منتقلی جیسے اقدامات شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے استور کے حلقہ استور-II کے علاقے بنجی میں واقع بلاچی پولنگ اسٹیشن کی اچانک منتقلی پر بھی اعتراض کیا۔ پارٹی کے مطابق پولنگ اسٹیشن کو راتوں رات سڑک کنارے سے پہاڑی مقام پر منتقل کیا گیا، جس سے ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور مقامی افراد نے احتجاجاً گلگت-سکردو شاہراہ بھی بند کر دی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی اور سرکاری نتائج کے اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی مجموعی پوزیشن مزید واضح ہو جائے گی۔