CBN 247:
04 جولائی کو جاری ہونے والے ایک بیان میں، جماعت الاحرار( جے یو اے )کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک "طویل مشاورتی عمل” کے بعد کیا گیا ہے۔ گروپ نے اس علیحدگی کی وجوہات میں تنظیمی ناانصافی، خود کو دیوار سے لگائے جانے، قیادت کے تنازعات، اور اپنے بانی امیر عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کا حوالہ دیا ہے۔
جماعت الاحرار کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان میں انضمام کے بعد ہونے والی ایک "غداری” کے نتیجے میں انہوں نے اپنے قائد کو کھو دیا۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اندرونی خون خرابے کو روکنے کے لیے اب تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن ان کے ارکان کو مسلسل سائیڈ لائن کرنے اور نشانہ بنانے کی کوششوں نے اس علیحدگی کو ناگزیر بنا دیا۔
جماعت الاحرار نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب سے ‘عمر خراسانی’ کی قیادت میں آزادانہ طور پر کام کرے گی، اور اپنے مستقبل کے سیاسی، فوجی اور تنظیمی فیصلوں پر مکمل اختیار برقرار رکھے گی۔ اس کے ساتھ ہی گروپ نے اپنے طے شدہ منشور اور تشریح کے مطابق پاکستان بھر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی عسکری مہم کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔