ریاض حسین
پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 کے دوران نمایاں اضافہ کے ساتھ 39.471 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا،
جو گزشتہ مالی سال میں 32.467 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح خسارے میں مجموعی طور پر 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تجارتی خسارے میں اضافے کی بڑی وجوہات برآمدات میں کمی اور درآمدات میں نمایاں اضافہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ملکی برآمدات 30.126 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 32.040 ارب ڈالر کے مقابلے میں 5.97 فیصد کم ہیں۔ دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 69.597 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے 64.507 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7.89 فیصد زیادہ ہیں۔
جون 2026 کے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں برآمدات میں 9.61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 2.239 ارب ڈالر رہیں، جبکہ جون 2025 میں یہ 2.477 ارب ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس جون 2026 میں درآمدات میں 26.27 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور ان کا حجم 6.767 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 5.359 ارب ڈالر تھا۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں تیزی سے اضافے کے باعث ملک کے بیرونی شعبے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف تجارتی توازن متاثر ہو سکتا ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر اور پاکستانی روپے کی قدر پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں معیشت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔