پشاور: خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف مجوزہ آپریشن کے آغاز میں صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، جبکہ رضاکارانہ وطن واپسی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے 6 جولائی تک 14 ہزار سے زائد افغان خاندان اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ اس دوران پشاور کے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات، دکانیں اور کاروباری مراکز بھی خالی کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 10 جولائی سے پشاور شہر اور کینٹ کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی مہاجرین اور ان سے منسلک کاروباری سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کارروائی کے لیے نمک منڈی، قصہ خوانی بازار، خیبر بازار، اشرف روڈ، یونیورسٹی روڈ، پھل و سبزی منڈی اور دیگر اہم تجارتی مراکز کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لیں گے۔ متعلقہ حکام نے مختلف بازاروں میں غیر قانونی کاروبار کرنے والے افراد کی فہرستیں بھی تیار کر لی ہیں، جن کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کیے جائیں گے، جبکہ حکومتی پالیسی کے تحت وطن واپسی کا عمل بھی جاری رہے گا۔