رفاق باچا :
مردان: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مردان نے مالی سال 2025-26 کے دوران ایک ارب 18 کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس وصول کر کے گزشتہ دس برسوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ محکمہ نے نہ صرف مقررہ سالانہ ہدف سے کئی گنا زیادہ وصولی کی بلکہ ضلع کی تاریخ کی نمایاں کامیابی بھی اپنے نام کر لی۔
محکمہ کے مطابق 35 کروڑ 52 لاکھ روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں ایک ارب 18 کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (ای ٹی او) خالد خان کی قیادت میں خصوصی ریکوری مہم کے دوران مختلف شعبوں میں غیر معمولی وصولیاں ممکن بنائی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹوبیکو سیس کی مد میں 80 کروڑ 86 لاکھ روپے، جائیداد ٹیکس سے 19 کروڑ 98 لاکھ روپے، ٹوکن ٹیکس سے 7 کروڑ 25 لاکھ روپے، پروفیشنل ٹیکس سے 5 کروڑ 93 لاکھ روپے، رجسٹریشن فیس کی مد میں 3 کروڑ 83 لاکھ روپے جبکہ ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 15 لاکھ روپے سے زائد وصول کیے گئے۔ اس کے علاوہ بارگین، موٹر وہیکل اور دیگر مدات سے بھی کروڑوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے۔
ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے ای ٹی او خالد خان کی ہدایت پر پہلی مرتبہ مردان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایکسائز ڈیسک قائم کیا گیا، جبکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید ڈیجیٹل بنایا گیا۔ اس اقدام سے تاجروں اور شہریوں کو ٹیکس جمع کرانے اور دیگر سرکاری امور کی انجام دہی میں آسانی حاصل ہوئی، جسے کاروباری برادری نے سراہا۔
دوسری جانب خصوصی ریکوری مہم کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ماضی میں بعض نادہندگان سے اصل واجبات کے بجائے معمولی رقوم وصول کی جاتی رہی تھیں، جس کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ موجودہ مہم میں اصل واجبات کی ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تو متعدد ایسے معاملات سامنے آئے جن سے سابقہ وصولیوں اور ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
مردان کے تاجروں، شہریوں اور مختلف سرکاری افسران نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس قومی ترقی اور ریاستی نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید شفاف، مکمل طور پر ڈیجیٹل اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ شہری آسانی سے اپنے واجبات ادا کر سکیں۔