مردان: خواجہ گنج بازار کے تاجر حاجی فرمان علی کی تین بیٹیوں نے اپنے بھائیوں پر والد کی علالت کے دوران مبینہ طور پر جائیداد اور کاروباری اثاثوں کے کاغذات اپنے نام منتقل کرنے، جائیداد پر قبضے اور انہیں کاروباری و مالی حقوق سے محروم رکھنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انیل فرمان، مہرین فرمان اور عائشہ فرمان نے کہا کہ ان کے والد حاجی فرمان علی فالج کے باعث طویل عرصے تک انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج رہے، جبکہ بعد ازاں ان کی وفات ہوگئی۔
ان کے مطابق والد کی بیماری کے دوران ان کے بھائی اسد علی، وقاص اور حارث نے مبینہ طور پر والد کی کمزوری اور بیماری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے جائیداد اور کاروباری اثاثوں سے متعلق کاغذات پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے اور بعض اثاثے اپنے نام منتقل کرلیے۔
بیٹیوں نے الزام عائد کیا کہ والد کی بیماری کے دوران انہیں ایسی ادویات بھی دی جاتی رہیں جن کے اثرات اب تک موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والد کئی دنوں تک بولنے اور اپنی مرضی واضح کرنے سے بھی قاصر رہے۔
شکایت کنندگان کے مطابق مبینہ طور پر متنازع اثاثوں میں خواجہ گنج بازار میں مشترکہ مارکیٹ، مشترکہ ملکیتی مزدا گاڑی، ایک دکان اور مکان، بینک اکاؤنٹس میں موجود تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ روپے، تخت بھائی روڈ پر واقع سی این جی پمپ، بخشالی روڈ پر پٹرول پمپ اور گودام، جبکہ خواجہ گنج بازار میں ایک گودام شامل ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مرحوم حاجی فرمان علی کی ملکیت میں تقریباً 15 تولہ سونا بھی تھا۔
حاجی فرمان علی کی بیٹیوں کا کہنا تھا کہ انہیں والد کی جائیداد اور کاروبار میں ان کے مبینہ قانونی حق سے محروم رکھا گیا ہے، جبکہ ان کے مطابق بعض بھائیوں نے مشترکہ کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع سے قیمتی گاڑیاں اور بیرونِ ملک، خصوصاً لندن، میں جائیدادیں بھی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرچکی ہیں، تاہم ان کے مطابق بعض بھائی مبینہ طور پر مختلف ذرائع سے ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور عدالتی کارروائی رکوانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف ایک مبینہ جعلی رضامندی نامہ عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں بیٹیوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی وزیر طارق اریانی، کمشنر مردان، ڈپٹی کمشنر مردان اور ڈی آئی جی مردان سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں مبینہ دباؤ اور ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر قبضہ کی گئی جائیداد اور اثاثے واپس دلائے جائیں، جبکہ ان کے بھائیوں کے خلاف مبینہ جعلسازی، دھوکہ دہی اور بیماری کی حالت میں دستاویزات کی منتقلی کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
متاثرہ خواتین نے متعلقہ محکمہ مال کے اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات اور مبینہ جعلی انتقالات و دستاویزات کی تیاری میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ قانونی اور آئینی طریقے سے اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گی اور حکومت سے انصاف اور تحفظ کی امید رکھتی ہیں
خبر میں شامل الزامات متاثرہ خواتین کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور نامزد افراد کا مؤقف اس بیان میں شامل نہیں ہے۔