مردان: پختون جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے سینئر صحافی منظور حسین کو مردان تعلیمی بورڈ کی جانب سے ملے لیگل نوٹس کو آزادیِ صحافت اور عوام کے حقِ معلومات پر قدغن قرار دے دیا۔
اس حوالے سے جاری مذمتی بیان میں ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری گوہر محسود کا کہنا تھا کہ اداروں کی کارکردگی، وسائل کے استعمال اور طلبہ کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھانا صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں سے ایک ہے اور ضروری ہے کہ ان کو جوابات پوری دیانتداری سے دیئے جائیں نا کہ اس پر انہیں دبایا دھمکایا یا ہراساں کیا جائے، ایسے ہتھکنڈے کسی بھی ادارے کے وقار اور ساکھ میں اضافے کا باعث نہیں بن سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں آزاد صحافت سرکاری اداروں کے احتساب کا ایک اہم ذریعہ ہے؛ صحافیوں کو عوامی مفاد کے معاملات اجاگر کرنے پر قانونی نوٹسز کا اجرا یا دھونس دھمکی کو آزادیِ اظہار رائے اور عوام کے حقِ معلومات پر براہِ راست حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ صحافی منظور حسین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے شفاف اور حقائق پر مبنی جوابات دیئے جائیں، مردان تعلیمی بورڈ فوری طور پر لیگل نوٹس واپس لے، صحافتی آزادی کا احترام کرے اور عوامی خدشات کے ازالے کے لیے شفاف اور واضح مؤقف اختیار کرے۔
تنظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صحافیوں کو خوفزدہ کرنے، ان کی آواز دبانے یا عوامی مفاد میں رپورٹنگ سے روکنے کی ہر کوشش کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔