خلیج میں کشیدگی برقرار، جنگ بندی کے باوجود امن مذاکرات تعطل کا شکار — بھاری جانی و مالی نقصانات سامنے آ گئے

ریاض حسین

پشاور: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے باوجود خلیجی خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ بحری ناکہ بندی، باہمی عدم اعتماد اور سست سفارتی پیش رفت کے باعث مجوزہ امن مذاکرات غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی، تاہم فریقین کے درمیان بنیادی تنازعات جوں کے توں برقرار ہیں، جس کے باعث کشیدگی کم ہونے کے بجائے برقرار ہے۔

کشیدگی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے، جہاں ایران نے بحری آمد و رفت کو محدود کر رکھا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی سمندری تجارت کو روکنے کے لیے اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اگلے اقدام کے منتظر ہیں، جس سے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایرانی سفیر سے ملاقات کی، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت سے متعلق کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو تحویل میں لینے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

جانی و مالی نقصانات

جاری کشیدگی کے دوران ایران کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اندازاً 3,500 سے 6,000 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ درجنوں طیارے اور بحری اثاثے تباہ ہوئے اور دفاعی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس سے معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔

امریکا کو جانی نقصان نسبتاً کم رہا، تاہم اسے 200 ارب ڈالر سے زائد مالی بوجھ اور دفاعی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل میں بھی شہری سطح پر نقصان ہوا، جہاں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ انفراسٹرکچر متاثر ہوا۔

عالمی معیشت پر اثرات

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل ہوتی ہے، کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 101.76 ڈالر جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 92.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جو خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کی مدت واضح نہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ امریکا دباؤ برقرار رکھنے پر قائم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی وقتی ریلیف ضرور ہے، مگر مستقل امن کے لیے بامعنی مذاکرات اور اعتماد سازی ناگزیر ہیں، بصورت دیگر خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے