خطے میں جاری سیاسی، معاشی عدم استحکام اور معاشرتی سطح پر بڑھتی ہوئی نسلی، لسانی اور قبائلی تقسیم کے پیش نظر قومی اصلاحی تحریک (Qaumi Islahi Tehreek) نے ایک اعلی سطحی مشاورتی کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس میں دانشور، قبائلی جرگوں کے نمائندے اور سپریم مصالحت کار شامل ہوں گے۔
تحریک کے اعلامیے کے مطابق اس کونسل کا بنیادی مقصد مختلف طبقات اور متحارب گروہوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر ایک امن پسند، فلاحی اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنا ہے۔
تحریک نے خبردار کیا کہ قبائل، ذات پات، ذیلی قبیلوں اور لسانی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی تقسیم ایک بڑے سماجی تصادم کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جو محلہ اور گلی کی سطح تک لڑائی جھگڑوں کو جنم دے سکتی ہے، جن پر قابو پانا ریاستی اداروں کیلئے ناممکن ہو جائے گا۔
“موجودہ تقسیم ہمیں اُس دور کی طرف دھکیل رہی ہے جو دورِ جاہلیت کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اگر اندرونی یا بیرونی عناصر نے نفرت کی آگ بھڑکا دی تو ہم صرف افسوس ہی کر سکیں گے”، اعلامیے میں کہا گیا۔
قومی اصلاحی تحریک کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں لوئر اور اپر دیر میں زمینی تنازعے پر بھاری و ہلکے ہتھیاروں کے آزادانہ استعمال نے خطرناک مثال قائم کی ہے، جبکہ ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پختون معاشرہ پہلے ہی عدم برداشت، انتقام پسندی اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہے، جبکہ کرم ایجنسی اور پاراچنار کی صورتحال اس کی ایک مستقل مثال ہے۔
تحریک نے واضح کیا کہ اگر تمام قبائل، جرگہ مشران اور سماجی نمائندے مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل نہ دے سکے، تو “پورا خیبر پختونخوا ایک نیا ضلع کرم بن سکتا ہے”۔
مزید کہا گیا:
“عالمی طاقتوں نے پختون خطے کو اپنی جنگوں کا میدان بنا دیا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم جذبات نہیں بلکہ حکمت سے کام لیں اور منظم اجتماعی کردار ادا کریں۔”