اسکولوں کی زمین دینے والوں کو حق دو، ورنہ صوبہ بھر میں احتجاج ہوگا — درجہ چہارم ایسوسی ایشن”

مردان:
آل پاکستان درجہ چہارم ملازمین ایسوسی ایشن ضلع مردان کے صوبائی صدر اکبر خان مہمند نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کو اراضی دینے والے لینڈ اونرز کو ان کے قانونی حقوق اور معاوضہ فوری طور پر فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ وہ مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ضلعی صدر اعلیٰ مراد خان، جنرل سیکرٹری سرتاج خان، عمرا خان، خائستہ گل، جہانگیر خان اور عرفان خان بھی موجود تھے۔

اکبر خان مہمند نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے والی موجودہ حکومت نے کلاس فور ملازمین سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، اور حکمرانوں کی تمام توجہ آڈیالہ جیل کی سیاست پر مرکوز ہے، جبکہ سرکاری اسکولوں اور ملازمین کے مسائل مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا میں 32 ہزار سرکاری اسکولوں کی زمینیں اب بھی لینڈ اونرز کی ملکیت ہیں جنہوں نے برسوں پہلے اراضی حکومت کے لیے وقف کی، لیکن آج تک انہیں نہ قانونی حق ملا اور نہ کوئی مالی معاوضہ۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک لاکھ 63 ہزار کلاس فور ملازمین معاشی پریشانی میں مبتلا ہیں جبکہ حکومتی ناکامیوں کے باعث 150 سرکاری اسکول صوبے میں اور 36 اسکول صرف مردان میں بند پڑے ہیں، جس سے 5 ہزار سے زائد طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے۔

انہوں نے محکمہ تعلیم میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت، نجکاری کے رجحان اور تعلیمی سہولیات کی کمی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نصابی کتب، فرنیچر اور بنیادی سہولتیں تک فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا:

تمام سرکاری محکموں میں ڈیلی ویجز پالیسی ختم کی جائے

اسکول اراضی دینے والوں کو قانونی حقوق اور معاوضہ دیا جائے

محکمہ تعلیم کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک کیا جائے

آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو صوبے کی سطح پر منظم احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے