پشاور:
خیبرپختونخوا پروفیسرز، لیکچرار اینڈ لائبریرینز ایسوسی ایشن (KPPLA) نے صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری کالجز کی آؤٹ سورسنگ اور پروفیسرز کے سروس رولز میں متنازعہ ترامیم کے خلاف غیر معینہ مدت تک کلاس بائیکاٹ اور تعلیمی اداروں کی تالا بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد صوبے بھر میں تدریسی عمل معطل ہو گیا ہے اور طلبہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
طلبہ کا احتجاج اور شاہراہوں کی بندش
اساتذہ کے احتجاج کے ساتھ ہی ہزاروں طلبہ نے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے اور اہم شاہراہوں کو کئی گھنٹوں تک ٹریفک کے لیے بند رکھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر اساتذہ کی خالی آسامیاں پر کرے، کالجز کو فرنیچر اور بنیادی سہولیات فراہم کرے اور آؤٹ سورسنگ کی پالیسی کو ختم کرے۔
اساتذہ کے خدشات
ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے مؤقف اپنایا ہے کہ حکومت پہلے ہی سیکڑوں اسکول نجی اداروں کے حوالے کر چکی ہے اور اب کالجز کی آؤٹ سورسنگ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات تعلیم کو کاروبار بنانے اور غریب طلبہ کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہیں۔ اساتذہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت من مانے انداز میں سروس رولز میں ترامیم کر رہی ہے جس سے نہ صرف ان کے آئینی حقوق پامال ہو رہے ہیں بلکہ سرکاری کالجز کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔
مطالبات
احتجاجی اساتذہ اور طلبہ نے درج ذیل مطالبات کیے ہیں:
صوبے بھر کے کالجز میں اساتذہ کی خالی آسامیاں فوری طور پر پر کی جائیں۔
فرنیچر، لیبارٹری اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
آؤٹ سورسنگ پالیسی مکمل طور پر واپس لی جائے۔
پروفیسرز اور لیکچررز کے سروس رولز میں کی جانے والی متنازعہ ترامیم ختم کی جائیں۔
پس منظر: اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ
خیبرپختونخوا حکومت نے حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر اسکولوں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 34,784 اسکول موجود ہیں جن میں 59 لاکھ 40 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، تاہم اب بھی 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ حکومت نے ان میں سے 4,147 اسکولوں (یعنی 11.92 فیصد) کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں 2,313 لڑکیوں اور 1,834 لڑکوں کے اسکول شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں 1,500 اسکول پرائیویٹ اداروں کے حوالے کیے جائیں گے، جن میں 500 ضم شدہ اضلاع اور 1,000 دیگر اضلاع کے ہیں۔
خیبرپختونخوا ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے سیکرٹری خالد خان کے مطابق، یہ عمل اگلے دو برسوں میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔
حکومتی مؤقف
حکومت کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے اور یہ ایک ’’اصلاحاتی قدم‘‘ ہے۔ تاہم، ناقدین اور اساتذہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں تعلیم عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی اور نجکاری کے بڑھتے ہوئے رحجان سے غریب طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
نتیجہ
پروفیسرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت اپنی پالیسی واپس نہیں لیتی، کلاسز بحال نہیں ہوں گی اور احتجاج جاری رہے گا۔ اس صورتحال کے باعث صوبے بھر کے کالجز میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں جبکہ حکومت اور اساتذہ کے درمیان کشمکش مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔