48 گھنٹے بعد افغانستان میں انٹرنیٹ بحال، کالعدم تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دوبارہ سرگرم

تیمور خان
افغانستان میں پیر کے روز سہ پہر 5 بجے سے موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی تھی، جس کے
نتیجے میں کالعدم تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی خاموش ہوگئے تھے۔ تاہم بدھ کی سہ پہر تقریباً 48 گھنٹے بعد سم کارڈز اور وائی فائی کے ذریعے سروس بحال ہوتے ہی یہ اکاؤنٹس دوبارہ متحرک ہوگئے۔

کالعدم تنظیموں کے تین افراد کو منگل کے روز ان کے ذاتی واٹس ایپ نمبرز پر بھیجے گئے پیغامات اس دوران موصول نہیں ہوئے تھے، لیکن انٹرنیٹ بحال ہوتے ہی یہ پیغامات یک دم پہنچ گئے۔

نجی روشن کمپنی، سرکاری سلام کمپنی سمیت دیگر ٹیلی کام نیٹ ورکس پر بھی انٹرنیٹ بحال کردیا گیا۔ اس سے قبل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث صرف منگل کے روز آٹھ پروازیں منسوخ ہوگئیں، ویزا اجرا، بینکنگ، کسٹم کلیئرنس اور دیگر سرکاری و کاروباری امور بھی معطل رہے، جبکہ افغان شہریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا تھا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ امیر متقی سمیت تین وزراء نے انٹرنیٹ معطلی کی مخالفت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اس اقدام سے صورتحال خراب ہوسکتی ہے، تاہم یہ فیصلہ براہِ راست ملا ہیبت اللہ کی ہدایت پر کیا گیا جس پر عمل درآمد لازم سمجھا گیا۔ مشکلات بڑھنے کے بعد حکومت نے بالآخر48 گھنٹے بعد موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ بحال کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے