سی بی این 247
سینئر صحافی اور سابق صدر مردان پریس کلب بخت محمد یوسفزئی کو دی جانے والی مبینہ دھمکیوں کے خلاف مردان پریس کلب میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں رکنِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے مبینہ دھمکی آمیز کال کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
اجلاس کی صدارت پریس کلب کے صدر لطف اللہ لطف نے کی، جبکہ کابینہ اراکین اور سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو دھمکانا نہ صرف قابلِ مذمت عمل ہے بلکہ یہ قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
صدر پریس کلب لطف اللہ لطف نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادیٔ صحافت اور اظہارِ رائے جمہوری معاشرے کے بنیادی ستون ہیں، جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بخت محمد یوسفزئی جیسے تجربہ کار صحافی کو نشانہ بنانا ناقابلِ برداشت ہے اور صحافی برادری اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی۔
اجلاس میں حکومتی حلقوں سے تعلق رکھنے والے بعض پارلیمنٹیرین کی جانب سے مبینہ دھمکی آمیز کالز پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
پریس کلب کی کابینہ نے متفقہ طور پر عزم ظاہر کیا کہ صحافیوں کے وقار، عزت اور پیشہ ورانہ آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اجلاس کے شرکاء نے بخت محمد یوسفزئی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری متحد ہو کر ہر قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرے گی۔