زرد آنکھیں، آلودہ پانی اور بڑھتی پریشانی: تخت بھائی میں ایک باپ کی کہانی سے اُبھرتا شہری بحران

سی بی این 247

55 سالہ عبدالباسط کی آواز میں بے بسی صاف جھلکتی ہے۔ وہ وارڈ نمبر 3 کے رہائشی ہیں اور اپنی بیٹی کی بیماری کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں،”میری بیٹی کی آنکھوں کا رنگ دن بدن زرد ہوتا جا رہا تھا۔ جب ہم اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو معلوم ہوا کہ اسے ہیپاٹائٹس اے ہے۔ ڈاکٹر نے فوراً کہا کہ اپنے پانی کو چیک کریں۔”

عبدالباسط کے مطابق ان کے علاقے میں سیوریج کا نظام انتہائی خراب ہے، جس کے باعث آلودہ پانی گھروں تک پہنچ رہا ہے اور خصوصاً بچوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ان کی کہانی صرف ایک گھر کی نہیں، بلکہ تخت بھائی کے سینکڑوں خاندانوں کی مشترکہ حقیقت بن چکی ہے۔

تخت بھائی میں شہری مسائل دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں۔اور ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ صاف پینے کے پانی کی کمی اور ناقص صفائی کے انتظامات نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں بچے اور خواتین اس مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔

مقامی افراد تحصیل میونسپل انتظامیہ (ٹی ایم اے) اور منتخب نمائندوں کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن نے جماعت اسلامی پی کے-60 کے رہنما اور سابق امیدوار نعمان یوسف کی نگرانی میں متاثرہ علاقوں، بشمول وارڈ نمبر 3 پیرانو ڈاگ، باجورو کورونا اور وارڈ نمبر 4 میں تین روزہ مفت طبی کیمپ قائم کیا ہے۔ یہاں شہریوں کو مفت اسکریننگ اور ابتدائی علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

کیمپ میں موجود ڈاکٹروں کے مطابق حالات نہایت تشویشناک ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ہر تیسرا شخص ہیپاٹائٹس اے، بی یا سی میں مبتلا پایا جا رہا ہے۔ ماہرین صحت اس وبا کی بڑی وجہ آلودہ پانی کو قرار دیتے ہیں، جہاں بوسیدہ اور ٹوٹی ہوئی پائپ لائنیں سیوریج کے ساتھ مل کر بیماری کو جنم دے رہی ہیں۔

علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاجاً مالاکنڈ ہائی وے بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بھی مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر عدنان ممتاز کے مطابق علاقے میں صحت اور صفائی کے مسائل انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وارڈ نمبر 3 کا مسئلہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ہیلتھ سروسز کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہی ہیں اور پانی کے آلودہ ذرائع کی نشاندہی کر کے فوری حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق قلیل مدتی اقدامات کے ساتھ ساتھ مستقل حل کے لیے پرانی اور بوسیدہ پائپ لائنوں کی مکمل بحالی ناگزیر ہے، کیونکہ موجودہ نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

اگرچہ حکام صاف پانی کی فراہمی کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن عبدالباسط جیسے شہری اب بھی فکر مند ہیں۔ ان کے لیے یہ مسئلہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت ہے—جہاں ایک باپ اپنی بیٹی کی صحت اور صاف پانی کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے