سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر کا سہارا: دباؤ میں گھری معیشت کو وقتی ریلیف، مگر چیلنجز برقرار

ریاض حسین | خصوصی رپورٹ

عالمی مالیاتی دباؤ کے نازک مرحلے میں پاکستان کو ایک بڑی سفارتی و مالی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی منظوری دے دی ہے، جبکہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کی سہولت کو بھی مزید تین سال کے لیے توسیع دی جا رہی ہے۔ یہ اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے International Monetary Fund اور World Bank کے اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر کیا۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو فوری طور پر اپنے بیرونی مالی معاملات میں توازن قائم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی یہ امداد نہ صرف زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دے گی بلکہ روپے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی کسی حد تک کم کرے گی۔

انہوں نے اس پیشرفت کو “بروقت اور نہایت اہم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بیرونی ادائیگیوں کے تمام تقاضے پورے کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

حال ہی میں پاکستان نے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کیا، جو عالمی منڈی میں اعتماد بحال کرنے کی ایک مثبت علامت سمجھی جا رہی ہے۔
لیکن پاکستان کو اسی ماہ متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں۔

موجودہ زرمبادلہ ذخائر، جو تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں، اس ادائیگی کے بعد نمایاں طور پر کم ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاؤہ جون تک ایک اور 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی واجب الادا ہے۔ یوں مجموعی طور پر اگلے چند ہفتوں میں پاکستان کو تقریباً 4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کا سامنا ہے۔

سعودی تعاون:

سعودی عرب، خصوصاً ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں، مسلسل پاکستان کی معاونت کرتا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے اپنے سعودی ہم منصب محمد بن عبداللہ الجدعان کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس تعاون کو سراہا۔

ماہرین کے مطابق یہ امداد وقتی استحکام تو فراہم کرے گی، لیکن بنیادی مسئلہ — یعنی بیرونی قرضوں پر انحصار — اب بھی برقرار ہے۔

حکومت نے مالی ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے نئی حکمت عملی بھی اپنائی ہے، جس میں گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام اورچین میں پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری بھی شامل ہیں، تاکہ قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ اہم ہے۔ ایک طرف سعودی عرب جیسے دوست ممالک کا تعاون ہے، تو دوسری طرف International Monetary Fund کے سخت اہداف اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ۔ ترکی نیوز ایجنسی انادولو کا کہنا ہے کہ قطر بھی پاکستان کو مالی معاونت کرے گی

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا پاکستان اس مالی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی معیشت کو مستحکم کر پاتا ہے یا نہیں۔فی الحال، سعودی امداد نے وقتی طور پر ایک سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کیا ہے — مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے۔

اس سے پہلے متحدہ عرب امارات نے 1990 کہ دہائی میں پاکستان کو 450ملین ڈالرز کا قرض دیا تھا اور 3 ارب ڈالرز زرمبادلہ کے طور پر سٹیٹ بینک کے پاس رکھے تھے مڈل ایسٹ میں جاری جنگ کے بعد امارت نے اپنے پیسے واپس مانگ لیے تھے جس کی کمی سعودی عرب نے پوری کردی

یاد رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی سیکیورٹی کا معاہدہ بھی موجود ہے اور پاکستانی فوجی دستے اور جنگی جہاز پہلے ہی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے