خیبرپختونخوا، 7 ارب کی کرسیوں کا معاملہ: نرخ پہلے طے، ٹینڈر بعد میں؟

تیمور خان

خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (کیپرا) کے قواعد و ضوابط کے برعکس صوبائی حکومت نے سکولوں میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے 7 ارب روپے سے زائد مالیت کی کرسیوں کی خریداری سنٹرلائزڈ نظام کے بجائے ضلعی سطح پر منتقل کر دی ہے، جبکہ خریداری سے قبل ہی مختلف اقسام کی کرسیوں کے نرخ بھی مقرر کر دیے گئے ہیں۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبے بھر کے سکولوں میں فرنیچر کی کمی پوری کرنے کے لیے مجموعی طور پر 12 لاکھ 55 ہزار 178 کرسیاں خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر 7 ارب 7 کروڑ 44 لاکھ 58 ہزار 394 روپے خرچ ہوں گے۔ ان میں 9 لاکھ 60 ہزار 792 طلبہ کے لیے چھوٹی کرسیاں، 1 لاکھ 78 ہزار 143 بڑی کرسیاں اور 1 لاکھ 16 ہزار 243 اساتذہ کی کرسیاں شامل ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق چھوٹی کرسی کی قیمت 4 ہزار 752 روپے، بڑی کرسی کی قیمت 5 ہزار 545 روپے جبکہ اساتذہ کی کرسی کی قیمت 5 ہزار 772 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس حساب سے چھوٹی کرسیوں پر 5 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد، بڑی کرسیوں پر تقریباً 1 ارب 20 کروڑ روپے اور اساتذہ کی کرسیوں پر 71 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔

قانون کیا کہتا ہے؟

کیپرا ایکٹ 2012 کی سیکشن 3 کے مطابق سرکاری خریداری کا عمل شفاف، مسابقتی اور مؤثر ہونا چاہیے تاکہ کم سے کم لاگت میں بہترین معیار حاصل کیا جا سکے اور سرکاری وسائل کا دانشمندانہ استعمال یقینی بنایا جائے۔

دستاویزات کے مطابق اس منصوبے میں جنرل سپلائی آرڈرز کو بھی شامل کیا گیا ہے، حالانکہ جنرل آرڈر سپلائر عموماً خود مینوفیکچرر نہیں ہوتا بلکہ وہ کارخانہ دار سے سامان حاصل کرکے اس میں اپنا منافع شامل کرتا ہے، جس سے لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس مینوفیکچرر براہ راست سپلائی اور نسبتاً کم نرخ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پہلے سے نرخ مقرر کرنے پر سوالات

کیپرا ایکٹ کی سیکشن 14(بی) کے تحت خریداری میں مقابلے کی فضا پیدا کرنا لازمی ہے تاکہ مختلف کمپنیوں کے درمیان مسابقت کے نتیجے میں حکومت کو بہترین نرخ مل سکیں۔ تاہم اس منصوبے میں کرسیوں کے نرخ پہلے ہی مقرر کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بیس لائن یا ریزرو قیمت کا تصور عام طور پر نیلامی کے عمل میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ خریداری کے معاملات میں اس کی واضح قانونی گنجائش موجود نہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب کا کہنا ہے کہ خریداری کا پورا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے، تاہم متعلقہ قانونی شقوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے خود کو غیر تکنیکی قرار دیتے ہوئے تفصیلی جواب دینے سے گریز کیا۔

سنٹرلائزڈ خریداری کے بجائے ضلعی نظام

کیپرا کے قواعد سنٹرلائزڈ خریداری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، تاہم محکمہ تعلیم نے اربوں روپے کی اس خریداری کو ایک مرکزی نظام کے تحت انجام دینے کے بجائے اضلاع میں تقسیم کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر خریداری ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر کی جاتی تو ایک ہی اشتہار کے ذریعے بڑے مینوفیکچررز کو مدعو کیا جا سکتا تھا، جبکہ موجودہ نظام میں ہر ضلع کے مرد و خواتین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران الگ الگ اشتہارات جاری کر رہے ہیں، جس سے انتظامی اخراجات اور مالی لین دین میں اضافہ ہوا ہے۔

مختلف اضلاع میں مختلف شرائط

کئی اضلاع میں ٹینڈر کی شرائط ایک دوسرے سے مختلف رکھی گئی ہیں، جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مثال کے طور پر اورکزئی اور مردان میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم سرٹیفکیٹ کے لیے اضافی نمبر مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح مینوفیکچرنگ پلانٹ کے ساتھ ایم او یو، اور بعض مقامات پر بینک بیلنس کی شرط بھی شامل کی گئی ہے، جو روایتی خریداری کے طریقہ کار کا حصہ نہیں سمجھی جاتی۔

محکمہ تعلیم کا مؤقف

ایڈیشنل ڈائریکٹر ابتدائی و ثانوی تعلیم سجاد، جو ڈائریکٹر کا اضافی چارج بھی رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ تمام خریداری قانون کے مطابق ہو رہی ہے اور ضلعی سطح پر سامان کی ترسیل نسبتاً آسان رہتی ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں سنٹرلائزڈ خریداری کے دوران بعض مسائل اور انکوائریاں سامنے آئی تھیں، اسی لیے اس بار خریداری کا اختیار اضلاع کو دیا گیا ہے۔

ضلع پشاور کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر فرمان علی کے مطابق اوپن ٹینڈرنگ کے ذریعے خریداری کی جا رہی ہے اور سب سے کم نرخ دینے والے کو ٹھیکہ دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مختلف اضلاع میں ٹینڈر کی شرائط مختلف ہیں اور فنڈز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے ہیں۔

فنڈز کی پیشگی منتقلی اور ذمہ داریوں کی تقسیم

کیپرا ایکٹ 2012 کی سیکشن 22(اے) نیلامی میں ریزرو قیمت کا ذکر کرتی ہے، تاہم خریداری کے معاملات میں پہلے سے نرخ مقرر کرنے کے حوالے سے کوئی واضح شق موجود نہیں۔

دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم نے سنٹرلائزڈ خریداری کے بجائے ذمہ داری ضلعی افسران کو منتقل کر دی ہے، جبکہ فنڈز بھی کئی ماہ قبل منتقل کر دیے گئے۔ ناقدین کے مطابق اگر رقم محکمہ خزانہ کے پاس رہتی تو اس پر منافع یا مارک اپ حاصل کیا جا سکتا تھا۔

سیکرٹری تعلیم کا مؤقف

سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مخصوص سپلائر سے نسبتاً زیادہ قیمت پر بھی خریداری کی جائے تو فائدہ بالآخر حکومت کو ہی ہوگا، اسی لیے بیشتر خریداری اسی طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ماضی میں خریداری کے عمل میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور انکوائریوں کے باعث اس مرتبہ سنٹرلائزڈ خریداری سے گریز کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کیپرا کی ہدایات کے تحت (جی ٹو جی) براہ راست خریداری صرف مخصوص اور محدود حالات میں ہی کی جا سکتی ہے، جس کے باعث موجودہ طریقہ کار پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے