پاکستان میں آبی بحران, حیاتیاتی تناو خطرے سے دوچار

تحرير : انجنير عبدالولی یوسفزۍ

اسلام آباد: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے سنگین آبی بحران کا سامنا کر رہا ہے جو محض پانی کی قلت تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی نظام، زرعی پیداوار، شہری زندگی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے بھی بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی ختم نہیں ہو رہا بلکہ زیرِ زمین سطح پر تیزی سے نیچے جا رہا ہے، آلودگی کا شکار ہو رہا ہے اور غیر منظم انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

زرغون تحریک گرین موومنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک جامع جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کو "انتہائی خطرناک زون” قرار دیا گیا ہے جہاں بعض علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ 1.5 سے 5 میٹر تک کم ہو رہی ہے جبکہ کئی مقامات پر گزشتہ دہائیوں کے دوران پانی سینکڑوں فٹ نیچے جا چکا ہے۔ لاہور میں بھی واٹر ٹیبل سالانہ تقریباً 0.45 سے 1.5 میٹر تک گر رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ ٹیوب ویلوں پر انحصار، شہری پھیلاؤ اور ریچارج کے مواقع میں کمی ہے۔
کراچی میں پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ ترسیلی نظام کی خرابیاں بھی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق لائن لاسز، لیکیجز اور بعض ساحلی علاقوں میں کھارے پانی کی زیرِ زمین ذخائر میں دراندازی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ فیصل آباد، ملتان، حیدرآباد، بلوچستان اور سندھ کے نیم خشک علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک بتائی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر منظم ٹیوب ویل نکاسی، بارش کے پانی کے ضیاع، زیرِ زمین پانی کے ریچارج سسٹمز کی کمی، روایتی فلڈ اریگیشن، بڑھتی ہوئی آبادی اور کمزور واٹر مینجمنٹ اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی جھیلیں اور ویٹ لینڈز بھی تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی کمی، آلودگی، تجاوزات اور غیر قانونی شکار کے باعث متعدد آبی ذخائر متاثر ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں آبی حیات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
جائزے کے مطابق پاکستان کے ویٹ لینڈز جو کبھی لاکھوں مہاجر پرندوں کی آماجگاہ تھے، اب ان کی تعداد میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ جھیلوں کے خشک ہونے، خوراک کی کمی، غیر قانونی شکار اور انسانی مداخلت کے باعث مہاجر پرندوں کے روایتی راستے اور مسکن متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے بحران سے نمٹنے کے لیے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، زیرِ زمین پانی کے ریچارج سسٹمز، جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، سیوریج اور صاف پانی کی علیحدگی، ساحلی علاقوں میں ڈی سیلینیشن پلانٹس اور جدید زرعی نظام جیسے ڈرِپ اور سپرنکلر آبپاشی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی نے حکومت پر زور دیا کہ ہنگامی بنیادوں پر ٹیوب ویل مانیٹرنگ، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور شہری سپلائی نظام کی بہتری کے اقدامات کیے جائیں، جبکہ طویل المدتی بنیادوں پر قومی واٹر ماسٹر پلان، زرعی اصلاحات، ریچارج نیٹ ورک اور شہری واٹر کوٹہ سسٹم متعارف کرایا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں زرعی پیداوار، شہری زندگی، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے، جس کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے