ریاض حسین
خیبرپختونخوا میں مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تسلسل میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین، شیخ الحدیث مولانا شیخ محمد ادریس کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا، جس کے بعد صوبے بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب مولانا ادریس اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ گاڑی میں ان کے ہمراہ دو پولیس اہلکار اور ڈرائیور بھی موجود تھے۔ حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے، جنہوں نے گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے عقب سے اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں مولانا ادریس موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں زخمی پولیس کانسٹیبل شیر عالم کی مدعیت میں درج کر لی گئی ہے۔ مقدمے میں نامعلوم ملزمان کو نامزد کرتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، جبکہ سکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
مولانا شیخ محمد ادریس کا شمار خیبرپختونخوا کے ممتاز علمائے کرام میں ہوتا تھا۔ وہ 1961 میں چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے دینی تعلیم حاصل کی اور جامعہ پشاور سے عربی اور اسلامیات میں ماسٹرز کیا۔ وہ دارالعلوم نعمانیہ میں طویل عرصے تک شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کے عہدے پر فائز رہے اور تین دہائیوں سے زائد عرصہ صحیح بخاری، جامع ترمذی اور صحیح مسلم کی تدریس میں گزارا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صوبے میں مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پشاور، کوہاٹ، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں کئی جید علما حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
نومبر 2025 میں پشاور کے بورڈ بازار میں قاری عزت اللہ کو ان کے بیٹے سمیت فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جبکہ مارچ 2025 میں کوہاٹ کے علاقے نصرت خیل میں مفتی فرمان کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح دارالعلوم حقانیہ میں مولانا حامد الحق اور پشاور کے علاقے ارمڑ میں مفتی منیر شاکر بھی فائرنگ کے واقعات میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، خیبرپختونخوا میں یہ حملے اب ایک منظم لہر کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جہاں مذہبی رہنماؤں کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا امتحان بن چکی ہے، جبکہ عوامی سطح پر خوف اور تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔