پاکستان پانی کے بحران اور آلودگی کی لپیٹ میں — معیشت، زراعت اور صحت شدید خطرے میں

تحریر و تحقیق: انجینئر عبد الولی خان یوسفزئی

پاکستان کو اس وقت دو بڑے بحرانوں کا سامنا ہے: پینے کے پانی کی آلودگی اور زرعی نہروں میں گندے پانی کا اخراج۔ ماہرین کے مطابق یہ مسائل نہ صرف انسانی صحت کے لیے مہلک ہیں بلکہ ملکی معیشت، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

دریاؤں اور ایریگیشن کا زہریلا پانی

پاکستان کی زراعت کا انحصار انڈس بیسن اور اس کے معاون دریاؤں پر ہے، لیکن مختلف مطالعات کے مطابق 50 سے 100 فیصد ایریگیشن پانی غیر محفوظ ہے کیونکہ اس میں untreated سیوریج اور صنعتی فضلہ شامل ہو رہا ہے۔ شہروں کے نالے اور ڈرین براہِ راست دریاؤں میں گر رہے ہیں جس سے زمین بنجر اور فصلیں زہریلی ہو رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پشاور، حیات آباد اور ریگی للمہ ٹاؤن شپ کا سارا سیوریج ایریگیشن سسٹم میں شامل ہو رہا ہے۔ ان علاقوں میں کوئی ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگایا گیا، نتیجتاً پشاور، مردان اور نوشہرہ کی زمینیں زہریلا پانی پی رہی ہیں۔

دیگر صوبوں کی صورتحال
• پنجاب: لاہور اور فیصل آباد کا صنعتی فضلہ دریائے راوی اور چناب میں شامل ہو رہا ہے۔
• سندھ: کراچی و حیدرآباد کے صنعتی علاقے untreated پانی دریائے سندھ میں چھوڑ رہے ہیں۔
• بلوچستان: زیرِ زمین پانی میں nitrate اور salinity خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔

پینے کے پانی کی کوالٹی — تشویشناک انکشافات

WHO اور UNICEF کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد آبادی غیر محفوظ پانی پینے پر مجبور ہے۔ PCRWR کی تحقیق کے مطابق 24 بڑے شہروں میں سے 20 شہروں کا پانی غیر محفوظ ہے۔
• کراچی: E. coli، nitrate اور heavy metals خطرناک حد تک زیادہ۔
• لاہور: arsenic، fluoride اور hardness عالمی معیار سے تجاوز کر گئے۔
• اسلام آباد/راولپنڈی: 34–94 فیصد پانی coli bacteria سے آلودہ۔
• پشاور: drinking water میں lead اور microbial آلودگی ریکارڈ ہوئی۔
• کوئٹہ: 80 فیصد ذرائع غیر محفوظ۔

ضائع ہوتا میٹھا پانی

پاکستان ہر سال اربوں کیوسک میٹھا پانی ذخیرہ کیے بغیر سمندر میں گرا دیتا ہے۔ اگر 5–6 ماہ کا اسٹوریج بنایا جائے تو زرعی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا اور گندے پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد دوبارہ استعمال میں لانا وقت کی ضرورت ہے۔

قومی و بین الاقوامی حقائق
• WHO: دنیا بھر کی 80 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے پھیلتی ہیں۔
• PCRWR: پاکستان کا 62 فیصد گندا پانی بغیر ٹریٹمنٹ دریاؤں اور زمین میں شامل ہو رہا ہے۔
• UNICEF: پاکستان میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ آلودہ پانی ہے۔

ذمہ دار ادارے اور کیس اسٹڈیز
• کنجو ٹاؤن شپ، سوات: سیوریج براہِ راست دریائے سوات میں گر رہا ہے۔
• شیخ ملتون ٹاؤن شپ، مردان: گندہ پانی کلپانی نالے کے ذریعے دریائے کابل میں شامل ہو رہا ہے۔
• DHA اور بحریہ ٹاؤن: بڑے کمرشل پروجیکٹس میں بھی ٹریٹمنٹ پلانٹ موجود نہیں۔

ان ماہرین کے مطابق اس بحران کے براہِ راست ذمہ دار ڈیولپمنٹ اتھارٹیز (CDA، LDA، KDA، PDA)، ہاؤسنگ سوسائٹیز (DHA، بحریہ ٹاؤن وغیرہ)، ایریگیشن ڈپارٹمنٹس اور میونسپل ادارے ہیں۔

سفارشات
• ہر نئی ہاؤسنگ اسکیم میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لازمی قرار دیا جائے۔
• ایریگیشن نہروں میں گھریلو اور صنعتی فضلے کا اخراج فوری روکا جائے۔
• پینے کے پانی کی کوالٹی پر مسلسل مانیٹرنگ اور سالانہ رپورٹ جاری کی جائے۔
• ذخیرہ پانی کے لیے ڈیمز اور رین واٹر ہارویسٹنگ کو ترجیح دی جائے۔
• گندے پانی کو ٹریٹ کر کے دوبارہ زرعی استعمال میں لایا جائے۔
• عوامی آگاہی مہم: “صاف پانی = صحت مند قوم، محفوظ زراعت = مضبوط معیشت”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے