اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے جمعہ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے تک بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
یہ اعلان وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب خطے کے دیگر حصوں تک پھیلنے لگی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 70 فیصد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور دنیا کے کئی ممالک میں عالمی قیمتوں کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ میں منتقل ہو رہے ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اس معاملے کا گزشتہ دو سے تین ہفتوں سے بغور جائزہ لیا جا رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مستقل کمیٹی، جس کی سربراہی علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں، عالمی منڈی کی صورتحال اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہی تھی۔
یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی جاں بحق ہو گئے۔
اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کی اجازت نہیں دے گا۔
عالمی منڈی میں بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جمعہ کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 5.42 ڈالر اضافے کے بعد 90.83 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 7.81 ڈالر اضافے کے بعد 88.96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ہونے والے گزشتہ جائزے میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 266 روپے 17 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے اضافہ کر کے 280 روپے 86 پیسے مقرر کی تھی۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری ملک گیر کریک ڈاؤن کا بھی حکم دیا ہے اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والے پمپوں کو بند کر کے ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
گزشتہ ہفتے وزیراعظم نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ملکی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔