لاپتہ افراد سے متعلق سرکاری اعداد و شمار جاری، خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر صوبہ قرار

حکومت نے ملک بھر میں لاپتہ افراد سے متعلق تازہ سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ رپورٹ ہوئی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق جنوری 2026 تک خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کے مجموعی طور پر 3 ہزار 730 کیسز سامنے آئے۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 2 ہزار 760 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں، جبکہ 970 کیسز تاحال زیر تفتیش ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 1 ہزار 804 لاپتہ افراد کو ٹریس کر لیا گیا، جن میں سے 707 افراد بحفاظت اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں 861 لاپتہ افراد انٹرنمنٹ سینٹرز میں پائے گئے، جبکہ 148 افراد مختلف جیلوں میں موجود ہیں۔ مزید برآں 88 لاپتہ افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔
ملک بھر کی مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو لاپتہ افراد کے کیسز کی تعداد 10 ہزار 806 تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے جنوری 2026 تک 9 ہزار 259 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں لاپتہ افراد کے 1 ہزار 794 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 1 ہزار 583 کیسز نمٹا دیے گئے جبکہ 211 کیسز زیر تفتیش ہیں۔ سندھ میں لاپتہ افراد کے 1 ہزار 868 کیسز سامنے آئے، 1 ہزار 723 نمٹائے گئے اور 145 کیسز تاحال زیر تفتیش ہیں۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کے 2 ہزار 917 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 750 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ 167 کیسز زیر تفتیش ہیں۔ آزاد کشمیر میں لاپتہ افراد کے 71 کیسز رپورٹ ہوئے، 61 نمٹائے گئے اور 10 کیسز زیر تفتیش ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق گلگت بلتستان میں لاپتہ افراد کے تمام 10 کیسز نمٹا دیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے اجرا کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات، بروقت انصاف اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے مطالبات ایک بار پھر زور پکڑنے لگے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے