آنے والی گرمی توانائی، پانی اور عوامی تیاری کا بڑا چیلنج، بروقت منصوبہ بندی ناگزیر قرار

انجنير عبدالولی یوسفزۍ

اسلام آباد: شدید گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت، پانی اور توانائی کے وسائل پر دباؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تناظر میں ماہرین نے حکومت، اداروں اور عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کریں۔
زرغون تحریک (گرین موومنٹ) کے چیئرمین انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی کی جانب سے جاری کردہ ایک عوامی و پالیسی جائزے میں کہا گیا ہے کہ دنیا اس وقت ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں موسم صرف درجہ حرارت کی تبدیلی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات معیشت، صحت، خوراک، پانی، توانائی اور سماجی استحکام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
جائزے کے مطابق جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان، ان خطوں میں شامل ہے جہاں آبادی میں اضافہ، شہری پھیلاؤ، پانی کی قلت اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث شدید گرمی کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں بجلی کی طلب میں اضافہ، پانی کی دستیابی میں کمی، زرعی شعبے پر دباؤ، شہری انفراسٹرکچر پر اثرات اور صحت کے نظام پر اضافی بوجھ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
تحریر میں زور دیا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں صرف بجلی کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں بلکہ بہتر ترسیل، توانائی کی بچت، مقامی ذرائع سے پیداوار، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی شعور کو بھی قومی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ جہاں عملی طور پر ممکن ہو، سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات، اسپتالوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں مرحلہ وار شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جائے، تاکہ دن کے اوقات میں قومی گرڈ پر دباؤ کم ہو، سرکاری اخراجات میں کمی آئے اور توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ ملے۔
جائزے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پانی کے ذخائر میں اضافہ، بارش کے پانی کے بہتر استعمال، آبپاشی کے نظام میں بہتری اور مقامی سطح پر پانی کی بچت جیسے اقدامات مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ شدید گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، پانی کا محتاط استعمال کریں، بچوں، بزرگوں اور محنت کش طبقے کا خصوصی خیال رکھیں، غیر ضروری بجلی کے استعمال سے گریز کریں اور اپنے گھروں و محلوں میں سبزہ بڑھانے میں کردار ادا کریں۔
جائزے کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات خوف پھیلانے کے نہیں بلکہ بروقت تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور اجتماعی شعور کے فروغ کے متقاضی ہیں، تاکہ مستقبل میں گرمی، پانی اور توانائی سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے