عبدالولی یوسفزئی
تحقیقی مطالعے کے مطابق اسلامی دنیا کے تعلیمی و فکری اداروں نے جدید یونیورسٹی نظام، تحقیق، نصاب اور علمی آزادی کی بنیاد یورپ سے صدیوں قبل رکھی تھی۔ عمومی تاثر کے برخلاف کہ یونیورسٹی اور ڈگری نظام کی ابتدا یورپ میں ہوئی، تاریخی شواہد واضح کرتے ہیں کہ یہ روایت مسلم تہذیب میں موجود تھی۔
یہ بات انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی، چیئرمین زرغون تحریک (Green Movement)، کی تازہ تحقیقی و تقابلی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق:
- جامع القرویین (859ء، مراکش)، جامعہ الازہر (970ء، قاہرہ)، بیت الحکمہ (9ویں صدی، بغداد) اور نظامیہ مدارس (1065ء) منظم اسلامی تعلیمی ادارے تھے۔
- ان اداروں میں باقاعدہ نصاب، تنخواہ دار اساتذہ، طلبہ کے وظائف، لائبریریاں، تحقیقی آزادی اور سائنسی و فکری مباحث رائج تھے۔
- جامع القرویین کو دنیا کی قدیم ترین مسلسل فعال یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے، جس کی تصدیق یونیسکو اور گنیز ورلڈ ریکارڈز بھی کرتے ہیں۔
- بیت الحکمہ کو دنیا کا پہلا منظم تحقیقی ادارہ کہا جا سکتا ہے، جہاں یونانی، فارسی اور سنسکرت علوم کا عربی میں ترجمہ کیا گیا اور جدید سائنس کی فکری بنیاد رکھی گئی۔
- نظامیہ مدارس ایک مکمل تعلیمی ماڈل تھے، جن سے امام غزالیؒ جیسے عظیم مفکر وابستہ رہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ یورپ کی معروف جامعات—بولونیا، پیرس اور آکسفورڈ—اسلامی تعلیمی اداروں کے قیام کے سینکڑوں سال بعد وجود میں آئیں۔ معروف مغربی مؤرخین بشمول ول ڈیورانٹ اور جارج مکدیسی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یورپی یونیورسٹی ماڈل اسلامی دنیا کے تعلیمی اور انتظامی نظام سے متاثر تھا۔
رپورٹ میں علم کے اسلامی تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام میں علم صرف ذریعہ معاش نہیں بلکہ عبادت اور فرض ہے۔ قرآن و حدیث میں غور و فکر، سوال، دلیل اور تحقیق پر زور دیا گیا، جس نے مسلم دنیا میں لائبریریوں، تجربہ گاہوں اور تحقیقی روایت کو فروغ دیا۔
مسلم دنیا کے زوال کا تجزیہ کرتے ہوئے مطالعے میں بتایا گیا کہ یہ زوال اسلام کی تعلیمات کے باعث نہیں بلکہ علم سے دوری، تحقیق کی کمی، اقتدار کی سیاست اور اخلاقی انحطاط کی وجہ سے ہوا۔
زرغون تحریک کے نظریے پر بات کرتے ہوئے انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی نے کہا کہ تحریک علم کو بنیاد، ماحول کو امانت اور شعور کو اصل طاقت سمجھتی ہے، جبکہ تشدد کی مکمل نفی کرتی ہے۔ ان کے مطابق “سفید انقلاب” ایک ایسا تصور ہے جو خون کے بغیر، قلم، تعلیم اور اخلاق کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا پیغام دیتا ہے۔
تحقیق کے اختتام پر کہا گیا کہ اسلام نے علم کو روحانی اور سماجی وقار عطا کیا، اور زرغون تحریک اسی عظیم علمی روایت کو جدید دور میں زندہ کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے، جو حقیقی اور پائیدار سماجی تبدیلی کا راستہ ہے۔