پشاور: پشاور کے وسط میں ہزار خوانی قبرستان میں پشتو ادب کے معروف صوفی شاعر رحمان بابا مدفون ہیں۔ یہ قبرستان چارسدہ کے بعد خیبر پختونخوا کا دوسرا سب سے بڑا قبرستان سمجھا جاتا ہے۔
رحمان بابا (1632-1711) پشتو زبان کے عظیم صوفی شاعر، عالم اور مفکر تھے، جو بہادر کلے پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری تصوف، اخلاقیات، بھائی چارے اور خدا سے محبت پر مبنی ہے۔ ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کے لیے ایک اہم روحانی مرکز ہے اور ان کی شاعری کو پشتو کا حافظ شیرازی کہا جاتا ہے۔
ان کا مشہور مجموعہ دیوانِ رحمان پشتو ادب میں کلاسیکی حیثیت رکھتا ہے۔ رحمان بابا محبت کو سب سے بڑی عبادت اور دنیاوی غرور کو بیکار قرار دیتے تھے۔ انہوں نے ہر قسم کے فلسفے اور علم کو اپنی شاعری میں بیان کرنے کی کوشش کی۔
تاریخ میں رحمان بابا کی وفات کے حوالے سے مختلف روایتیں ملتی ہیں، جن میں 1711 اور 1715 دونوں ذکر ہیں، تاہم 1715 زیادہ مستند مانا جاتا ہے۔
رحمان بابا کے مرقد کا قدیم احاطہ مختصر تھا، لیکن 2009 میں دھماکے کی کوشش کے بعد یہ ایک وسیع و عریض کمپلیکس میں تبدیل ہو گیا۔ ہر سال موسم بہار میں ان کے مزار پر دو روزہ عرس کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ اس موقع پر مشاعرہ اور قوالی کے پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں، اور ادیب اور شاعروں کی جانب سے رحمان بابا کی شخصیت اور شاعری پر مقالے پیش کیے جاتے ہیں۔