سی بی این (مانیٹرنگ ڈیسک)
ایران میں مہنگائی، کرنسی بحران اور روزمرہ اخراجات میں غیر معمولی اضافے کے خلاف مختلف شہروں میں عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت تہران سمیت مشہد، اصفہان، شیراز اور تبریز جیسے بڑے شہروں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، جہاں انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
ابتدا میں یہ مظاہرے صرف معاشی مسائل تک محدود تھے، تاہم چند روز میں ان میں سیاسی نعرے اور حکومت پالیسیوں پر سخت تنقید بھی شامل ہو گئی ہے، جس سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور مظاہروں کا دائرہ پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔
اقتصادی بحران: عوامی ناراضگی کی بنیادی وجہ
ایران میں حالیہ مظاہروں کی بنیادی وجہ تیزی سے بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے مہنگائی میں مسلسل اضافے، کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی اور عوام کی قوتِ خرید میں واضح کمی نے شہریوں کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ایرانی کرنسی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کے باعث درآمدی اشیا، خوراک، ادویات اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بازاروں میں روزمرہ استعمال کی اشیا عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ تنخواہیں اور آمدن اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح 50 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ عملی طور پر خوراک اور بنیادی ضروریات کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ خاص طور پر گوشت، چاول، تیل، دودھ اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ سبسڈی اور کرنسی کے مختلف ریٹس کا موجودہ نظام عوام کو حقیقی فائدہ پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اربوں ڈالر کی سبسڈی کے باوجود فائدہ عام صارف کے بجائے درمیانی افراد اور بااثر حلقوں کو پہنچتا رہا، جس کے باعث بدعنوانی اور عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔
اسی تناظر میں حکومت نے ترجیحی ایکسچینج ریٹ ختم کرنے اور سبسڈی کو براہِ راست صارفین تک منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قلیل مدت میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوں گے، کیونکہ معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
اقتصادی مشکلات کا سب سے زیادہ اثر شہری متوسط طبقے پر پڑا ہے، جو ماضی میں نسبتاً مستحکم سمجھا جاتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے کرایہ، بجلی، گیس، علاج اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تاجروں اور بازاروں میں کام کرنے والوں کے مطابق خریداری کی طاقت میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
یہی معاشی دباؤ مظاہروں کو صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہنے دے رہا، بلکہ عوامی غصہ بتدریج سیاسی نعرے بازی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق جب عوام کو اپنی روزمرہ زندگی میں بہتری کی کوئی امید نظر نہ آئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع ہونا فطری عمل بن جاتا ہے۔
بازاروں سے مظاہروں کا آغاز
مظاہروں کی ابتدا تہران کے مرکزی بازار سے ہوئی، جہاں تاجروں نے دکانیں بند کر کے مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف احتجاج کیا۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں تیز اضافے اور کرنسی کی قدر میں کمی نے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔
بعد ازاں طلبہ، مزدور اور عام شہری بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزمرہ اشیا، خوراک اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہو چکی ہیں، جس کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں رہا۔
حکومتی ردِعمل
ایرانی حکومت نے مظاہروں کے جواب میں محتاط حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو پرامن مظاہروں کا حق حاصل ہے اور ان کے مسائل کو سننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فی الحال نہ انٹرنیٹ کی بندش کی گئی ہے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر طاقت کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔
جھڑپیں اور گرفتاریوں کی اطلاعات
مظاہروں کے دوران بعض شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ کچھ مقامات پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جبکہ چند افراد کی گرفتاریوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
تاہم مجموعی طور پر حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور بڑے پیمانے پر تشدد یا فسادات کی اطلاعات نہیں ملتیں۔
عوامی ردِعمل اور مطالبات
مظاہروں میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف مہنگائی تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ بہتر روزگار، کم قیمتوں، مؤثر معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ شہری آزادیوں اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے بھی خواہاں ہیں۔
شہریوں کے مطابق مہنگائی کا دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ایک عام گھرانے کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس کے باعث موجودہ مظاہروں میں وسعت اور شدت آتی جا رہی ہے۔
ایران میں جاری مظاہروں کے باوجود حکومت نے پرامن مظاہروں کے حق کی پاسداری کرنے اور عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات عوام کے اعتماد کو بحال کر پاتے ہیں یا بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔