مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پاکستان میں پٹرولیم لیوی کے ڈھانچے میں تبدیلی

ریاض حسین

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے توانائی کی عالمی سپلائی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے مستقبل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوگیا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 4 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 97.15 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 94.61 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔ یہ اضافہ گزشتہ ہفتے ہونے والی کمی کو ختم کر گیا، جب سفارتی پیش رفت کی امیدوں نے مارکیٹ کو کچھ حد تک سہارا دیا تھا۔

تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی ایران کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر اسرائیلی حملے اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آئی۔ ان حملوں نے خطے میں جاری تنازع کے جلد خاتمے کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی بلا تعطل ترسیل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں اسرائیلی اہداف پر میزائل داغے۔ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ خطے میں امن معاہدے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو لبنان میں جنگ بندی سے مشروط کر رکھا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تاہم اس کے استعمال کے لیے ایران اور عمان کی جانب سے نئی شرائط متعارف کرائی جا سکتی ہیں، جن میں جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

اگرچہ اوپیک پلس نے سپلائی کے خدشات کم کرنے کے لیے مسلسل چوتھی بار تیل کی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے فوری اثرات محدود رہیں گے کیونکہ کئی رکن ممالک لاجسٹک مسائل، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات اور علاقائی تنازعات کے باعث اپنی پیداواری صلاحیت کے اہداف حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

ادھر پاکستان میں وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے ڈھانچے میں ردوبدل کیا ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 8 روپے 70 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 280 روپے 70 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

حکومت نے پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں بھی 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد یہ شرح 91 روپے 34 پیسے سے بڑھ کر 116 روپے 08 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام مالی نظم و ضبط اور محصولات کے اہداف حاصل کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم اس کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہو سکا۔

اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) پر پٹرولیم لیوی میں 24 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس سے ڈیزل کی قیمت کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔

حکومت نے حال ہی میں پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کرتے ہوئے اسے 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کیا تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی۔ اس سے قبل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 22 روپے فی لیٹر کی نمایاں کمی کا اعلان بھی کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشت اور مہنگائی پر بھی مرتب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے