خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر برائے معدنیات و کان کنی عارف احمد زئی نے واضح کیا ہے کہ صوبے کے معدنی وسائل ایک قیمتی اثاثہ ہیں، جنہیں شفاف، مؤثر اور پائیدار حکمت عملی کے تحت استعمال کر کے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات محکمہ معدنیات کے اعلیٰ حکام سے اہم بریفنگ کے دوران کہی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر نے بوگس چالانوں کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس غیر قانونی عمل سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ادارے کی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں ہدایت کی کہ اس دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور کسی کو بھی رعایت نہ دی جائے۔
عارف احمد زئی نے کان کن مزدوروں کی فلاح و بہبود کو ترجیح قرار دیتے ہوئے جالوزئی مائن ریسکیو سینٹر میں جدید تربیتی پروگرامز کے انعقاد کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ مزدوروں کو جدید کان کنی، حفاظتی تدابیر اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی عملی تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید برآں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے لیے عالمی معیار کے مطابق سرٹیفیکیشن کو یقینی بنایا جائے، تاکہ خیبرپختونخوا کی معدنی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر رسائی حاصل کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کنی کے علاقوں میں لیبر ویلفیئر ڈسپنسریوں کے قیام کی ہدایت بھی جاری کی گئی، تاکہ مزدوروں کو بنیادی طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ محکموں کو ہدایات دی گئیں کہ فیصلوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے۔