خیبرپختونخوا میں آوارہ کتوں کے حملوں میں خطرناک اضافہ، عیدالاضحیٰ کے دوران سینکڑوں افراد متاثر

خیبرپختونخوا میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران کتے کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔


مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال مردان میں عید کے دنوں کے دوران تقریباً 400 متاثرہ افراد علاج کے لیے لائے گئے، جس نے صحت عامہ کے ماہرین اور شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔


طبی ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ زیادہ تر واقعات رہائشی علاقوں، بازاروں اور گلی محلوں میں پیش آئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے اور والدین اپنے بچوں کو تنہا گھروں سے باہر بھیجنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔


ماہرین صحت کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز جیسے مہلک مرض سے بچاؤ کے لیے فوری طبی امداد اور اینٹی ریبیز ویکسین کا مکمل کورس ناگزیر ہوتا ہے۔ ہر مریض کو پانچ اینٹی ریبیز انجیکشن لگائے جاتے ہیں اور ایک انجیکشن کی قیمت تقریباً تین ہزار روپے ہے۔ اس طرح ایک مریض کے علاج پر اوسطاً 15 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ صرف مردان میں رپورٹ ہونے والے تقریباً 400 مریضوں کے علاج کی لاگت 60 لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔
معروف ماہر صحت ڈاکٹر فضل مالک کے مطابق، "کتے کے کاٹنے کے علاج کے لیے ویکسین اور دیگر انجیکشنز پر بھاری اخراجات آتے ہیں، اس کے باوجود سو فیصد تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اس مسئلے کا مستقل حل یہی ہے کہ آوارہ کتوں کی آبادی کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جائے اور ان کی افزائش کو روکنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔”
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اکثر صرف ابتدائی خوراک دستیاب ہوتی ہے، جبکہ باقی انجیکشن مریضوں کو اپنی جیب سے خریدنے پڑتے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں متعدد خاندانوں کے لیے مکمل علاج کے اخراجات برداشت کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ شدید نوعیت کے زخموں اور زیادہ خطرناک کیسز میں اینٹی ریبیز امیونوگلوبیولن (RIG) کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے، جو مریض کے وزن کے مطابق تجویز کیا جاتا ہے۔ ایکوائن ریبیز امیونوگلوبیولن، جو گھوڑے سے تیار کیا جاتا ہے، نسبتاً کم قیمت ہونے کے باوجود ایک بالغ مریض کے لیے تقریباً 6 ہزار روپے تک لاگت رکھتا ہے اور اکثر اس کی دستیابی محدود ہوتی ہے۔ دوسری جانب ہیومن ریبیز امیونوگلوبیولن کی قیمت 40 سے 50 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے، جو عام شہری کی مالی استطاعت سے کہیں زیادہ ہے۔


عوامی حلقوں، سماجی کارکنوں اور طبی ماہرین نے صوبائی حکومت، محکمہ صحت، بلدیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اور جامع حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبہ بھر میں کتوں کی ویکسینیشن، رجسٹریشن اور آبادی کے کنٹرول کے لیے مستقل پروگرام شروع کیے جائیں، جبکہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔


ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آوارہ کتوں کے حملوں کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوں گے بلکہ صحت کے شعبے پر مالی بوجھ بھی مسلسل بڑھتا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مؤثر روک تھام اور بروقت حفاظتی اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے کے طبی اخراجات سے بھی بچا جا سکتا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے