افغان مہاجرین کی واپسی، 10 جولائی کی ڈیڈلائن معطل، مزید کتنے دن رہ سکتے ہیں؟

#PeshawarHighCourt #AfghanRefugees #PakistanNews #LegalRelief #HumanRights #UNHCR

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے سابق سیکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں، وکلا، اساتذہ اور دیگر افغان شہریوں کی 123 درخواستوں پر اہم عبوری فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 60 دن تک گرفتار یا ملک بدر نہ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

یہ سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں درخواست گزاروں کے وکلا اور وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ افغانستان میں اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، سیاسی وابستگی یا صنفی بنیادوں پر انہیں شدید خطرات لاحق ہیں، جس کے باعث وہ پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے بیشتر افراد اقوام متحدہ کے ادارے (UNHCR) کے ساتھ بطور مہاجر رجسٹرڈ ہیں اور کئی افراد تیسرے ممالک میں منتقلی کے مراحل بھی مکمل کر چکے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں اور غیر ملکیوں کی موجودگی فارن ایکٹ 1946 کے تحت ریگولیٹ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق درخواست گزاروں کے ویزے ختم ہو چکے ہیں، لہٰذا ان کا قیام غیر قانونی ہے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے فوری طور پر بے دخلی روکنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے