سہیل آفریدی کا لاہور دورے پر وزیراعلیٰ پنجاب کو احتجاجی مراسلہ

پشاور — وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے اپنے حالیہ دورۂ لاہور کے دوران مبینہ نامناسب اور توہین آمیز رویے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جس انداز میں ان کے دورے کے دوران معاملات کو ڈیل کیا گیا، وہ محض انتظامی کوتاہی یا حادثہ نہیں تھا بلکہ دانستہ طور پر کیے گئے اقدامات تھے، جن کے ذریعے ایک آئینی عہدے اور بین الصوبائی احترام کو مجروح کیا گیا۔


انہوں نے لکھا کہ وہ 40 ملین عوام کے منتخب نمائندے کی حیثیت سے لاہور گئے تھے، تاہم ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ کسی بھی طور ایک عوامی نمائندے کے شایانِ شان نہیں تھا۔ مراسلے کے مطابق ان کے دورے کے دوران مارکیٹوں اور عوامی مقامات کو بند کر کے لاہور کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ موٹروے کے ریسٹ ایریا تک کو بند رکھا گیا۔


وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ ان کے دورے کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلائی گئی، جس میں انہیں منشیات اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات سے جوڑا گیا، اور یہ سب کچھ پنجاب حکومت کی نگرانی میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل کے ذریعے ان کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔


مراسلے میں مزید کہا گیا کہ انتظامی سطح پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک کرنا تھا اور ان طریقوں کے ذریعے ریاستی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس طرزِ عمل پر بھرپور احتجاج کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اس کا ازالہ کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے اقدامات سے اجتناب برتا جائے گا۔ انہوں نے اس خط کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے ریکارڈ پر رکھا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی آئینی، قانونی یا بین الصوبائی کارروائی کے لیے بطور حوالہ استعمال کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے