مردان (بیورو رپورٹ) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مہوڈھیری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آ گیا، جہاں سکول کی پرنسپل انچارج شبانہ ناز نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خزانہ ڈھیری کی پرنسپل فوزیہ اعظم پر مختلف نوعیت کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شبانہ ناز کے مطابق، ان کے سکول کو بغیر پیشگی اطلاع اور منظوری کے میٹرک امتحانات کے لیے امتحانی مرکز مقرر کیا گیا، حالانکہ ضابطے کے تحت سکول انچارج کی باقاعدہ اجازت ضروری ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف انتظامی بے قاعدگیاں پیدا ہوئیں بلکہ سکول میں عملے اور طالبات کے لیے سکیورٹی خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ گروپ کی جانب سے طلبہ سے فی کس 300 روپے وصول کیے گئے، جو کہ غیر قانونی اقدام ہے، جبکہ سکول کے اخراجات کے لیے پہلے سے فنڈز دستیاب ہوتے ہیں۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان کے چیئرمین کے پی ایس فرزانہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس امتحانی مرکز کے قیام سے لاعلمی کا اظہار کیا، جس سے معاملے کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
سکول انچارج نے سکول سے قیمتی سامان کی مبینہ چوری اور مزید کرپشن کے انکشافات بھی جلد سامنے لانے کا عندیہ دیا ہے۔
انہوں نے کمشنر مردان ڈویژن، ڈپٹی کمشنر مردان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔