عمران ٹکر
پشاور — خیبرپختونخوا کے تعلیمی نظام کی سنگین صورتحال محکمہ تعلیم کی حالیہ سالانہ اسکول سنسز رپورٹ سے سامنے آئی ہے، جس کے مطابق صوبے میں تقریباً 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 627 سرکاری اسکول مکمل طور پر غیر فعال ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غیر فعال اسکولوں میں 226 ایسے ہیں جہاں ایک بھی استاد تعینات نہیں، جو صوبے میں تعلیمی سہولیات اور انتظامی نظام کی صورتحال پر سوالات اٹھاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 627 غیر فعال اسکولوں میں سے 411 ضم شدہ اضلاع جبکہ 216 بندوبستی اضلاع میں واقع ہیں۔ شمالی وزیرستان میں 111، جنوبی وزیرستان اپر میں 99 اور اپر کوہستان میں 68 اسکول غیر فعال ہیں، جو سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض اسکول اساتذہ کی عدم دستیابی، بعض طلبہ کی عدم موجودگی، جبکہ دیگر مقامی تنازعات اور مبینہ غیر قانونی قبضوں کے باعث بند ہیں۔
تعلیمی سہولیات کی اس کمی کے اثرات بچوں کی زندگیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اسکولوں سے باہر رہنے والے بچے چائلڈ لیبر، گداگری، جرائم اور دیگر سماجی مسائل کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ صوبے میں سات لاکھ سے زائد بچے اسکول جانے کے بجائے مزدوری کر رہے ہیں، جبکہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کی شرح بھی تشویش کا باعث ہے۔
ضم شدہ اضلاع میں صورتحال مزید حساس ہے، جہاں بدامنی، غربت اور طویل عرصے سے جاری محرومی کے باعث تعلیمی سہولیات کی کمی بچوں کے مستقبل کو مزید متاثر کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق 50 لاکھ بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ صوبے کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت کو غیر فعال اسکولوں کی فوری بحالی، اساتذہ کی کمی دور کرنے، غیر قانونی قبضے ختم کرنے اور مقامی تنازعات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
ایک بند اسکول صرف ایک غیر فعال عمارت نہیں، بلکہ سینکڑوں بچوں کے بہتر مستقبل کے مواقع محدود ہونے کی علامت ہے۔