پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کا شاندار کارنامہ، چاروں نے اسپانٹک چوٹی سر کرلی
اسلام آباد، 27 اگست 2026: گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی چار پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں نے 7,027 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کرکے ایک نمایاں کامیابی حاصل کرلی۔
شمع باقر، ثمنہ رحیم، زونی اسلم اور زیبہ بتول شگری نے دشوار مہم مکمل کرتے ہوئے اسپانٹک کی چوٹی پر قدم رکھا اور بحفاظت اسکردو واپس پہنچ گئیں۔ الپائن کلب آف پاکستان نے بھی ان کی کامیابی کی تصدیق کردی ہے۔
چاروں خواتین نے بلند مقامات پر کام کرنے والے پورٹرز کی مدد کے بغیر یہ مہم مکمل کی۔ شمع باقر اور ثمنہ رحیم کا تعلق وادی شمشال، زونی اسلم کا گوجال کے علاقے گلمت جبکہ زیبہ بتول شگری کا تعلق ضلع شگر سے ہے۔
نارتھ فیس ایڈونچر نے پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارنامہ نہ صرف خواتین کے عزم، حوصلے اور ٹیم ورک کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
نارتھ فیس ایڈونچر کے منیجنگ ڈائریکٹر شہزاد فیصل خان نے کہا کہ ان خواتین کی کامیابی پاکستان کی خواتین کے حوصلے، پہاڑی علاقوں کی مضبوط مقامی آبادیوں اور ملک میں ایڈونچر ٹورازم کے بے پناہ امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر کامیاب مہم دنیا کے سامنے پاکستان کے قدرتی حسن، ماہر کوہ پیماؤں، مقامی آبادیوں اور مشکلات پر قابو پانے والی خواتین کی ایک نئی کہانی پیش کرتی ہے۔
اسپانٹک، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، قراقرم کے اسپانٹک سوسبن سلسلے میں واقع ہے اور اس کی بلندی 7,027 میٹر، یعنی 23,054 فٹ ہے۔ یہ چوٹی چوگولنگما گلیشیئر سے منسلک ہے اور پہلی مرتبہ 1955 میں سر کی گئی تھی۔
اسپانٹک پاکستان کی معروف 7,000 میٹر بلند چوٹیوں میں شامل ہے۔ اس کا جنوب مشرقی ریج والا راستہ بلند پہاڑی مہمات کی تیاری کرنے والے کوہ پیماؤں کے لیے نسبتاً معروف راستہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس چوٹی کی مہم اب بھی انتہائی مشکل ہے اور اس کے لیے بھرپور تیاری، بلندی سے ہم آہنگی، ٹیم ورک اور سخت موسمی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
گلگت بلتستان دنیا کے بلند ترین پہاڑی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ خطے کے محکمہ سیاحت کے مطابق یہاں 6,000 میٹر سے بلند 700 سے زیادہ جبکہ 7,000 میٹر سے بلند 108 سے زیادہ چوٹیاں موجود ہیں۔ دنیا کی 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں سے پانچ، کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک، گاشر برم اول اور گاشر برم دوم بھی پاکستان میں واقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں کوہ پیمائی، ٹریکنگ اور فطرت پر مبنی سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ خواتین کی قیادت میں ہونے والی ایسی مہمات پاکستان کو ایک جامع اور ابھرتی ہوئی ایڈونچر ٹورازم منزل کے طور پر عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
گلگت بلتستان میں سیاحت بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران خطے میں اندرونِ ملک سیاحوں کے 989,793 دورے ریکارڈ کیے گئے، جن میں اسکردو 302,384 سیاحوں کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ ہنزہ میں 233,070، گلگت میں 130,480 اور دیامر میں 118,363 سیاح آئے۔
نارتھ فیس ایڈونچر کے مطابق پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے مضبوط حفاظتی معیار، تربیت یافتہ گائیڈز، قابلِ اعتماد ریسکیو انتظامات، ماحولیاتی تحفظ، فضلے کے مؤثر انتظام اور مقامی آبادیوں کی معاشی شمولیت ضروری ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ خواتین کو کوہ پیمائی، گائیڈنگ، کاروبار اور سیاحتی شعبے میں مزید مواقع فراہم کرنا بھی پاکستان کی ایڈونچر ٹورازم انڈسٹری کی ترقی کے لیے اہم ہے۔
اسپانٹک چوٹی کی یہ کامیاب مہم پاکستانی خواتین کے عزم، تیاری اور حوصلے کی ایک نئی مثال بن گئی ہے اور اس نے دنیا کے سامنے پاکستان کے پہاڑی حسن اور خواتین کی بڑھتی ہوئی کوہ پیمائی کی صلاحیت کو نمایاں کیا ہے۔