تیراہ آپریشن کا فیصلہ علی امین گنڈاپور کے دور میں ہوا، حقائق چھپائے جا رہے ہیں: امیر حیدر خان ہوتی

سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ تیراہ آپریشن کا فیصلہ علی امین گنڈاپور کے دورِ حکومت میں کیا گیا تھا، تاہم اب اس حوالے سے حقائق چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات مردان پریس کلب کے نو منتخب صدر لطف اللہ لطف، جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمٰن ہوتی اور دیگر عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔
اس موقع پر ضلعی صدر عمران ماندوری، بنیامین خان، فاروق اکرم خان، ہارون خان، سبز علی خان اور دیگر پارٹی عہدیداران بھی موجود تھے۔
امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سہیل آفریدی کو مفاہمت کے لیے نہیں بلکہ دباؤ اور ٹکراؤ کی پالیسی کے تحت لایا گیا، جس کے نتیجے میں معاملات میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ آپریشن اور پی ٹی آئی کے درمیان مفاہمت کی جڑیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں، مگر قوم کو اس بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر وزیراعلیٰ لاعلمی ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دونوں ہی لاعلمی کا دعویٰ کر رہی ہیں، حالانکہ حقائق سب کے سامنے ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزِعمل قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ تیراہ کے معاملے پر کھل کر سیاست کی جا رہی ہے، جبکہ دہشت گردی جیسے حساس مسئلے پر سیاست فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے آج تک کوئی متفقہ قومی بیانیہ تشکیل نہیں دیا جا سکا، جس کے باعث مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ واضح اور جامع حکمتِ عملی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست کی رٹ کمزور پڑتی جا رہی ہے جبکہ دہشت گرد مضبوط ہو رہے ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاجی سیاست اور سٹریٹ موومنٹس کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال بری طرح متاثر ہوئی، جبکہ نو مئی جیسے واقعات نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ تلخیوں اور محاذ آرائی کے ذریعے ملک نہیں چل سکتا، تمام سیاسی اور ریاستی فریقین کو مل بیٹھ کر سنجیدگی سے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہوگا تاکہ ملک اور صوبہ ایک بار پھر امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے