خیبرپختونخوا حکومت نے جامعات کے لیے صوبائی سطح پر رینکنگ سسٹم کی منظوری دے دی، جس کے بعد یہ صوبہ پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں جامع یونیورسٹی رینکنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کے مطابق، یہ رینکنگ نظام تعلیمی معیار، شفافیت اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ نئے نظام میں بین الاقوامی معیار کے QS اور THE کے اشاریے اور قومی سطح پر HEC کے بہترین معیار شامل کیے گئے ہیں۔
تمام سرکاری جامعات کو ایک ماہ کے اندر مقررہ پروفارما کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور پہلی مرتبہ مارچ میں خیبرپختونخوا جامعات رینکنگ لسٹ جاری کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ تعلیم نے بتایا کہ آئندہ مالی گرانٹس کی تقسیم میں بھی رینکنگ کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ بہترین کارکردگی دکھانے والی جامعات کو مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
نئے رینکنگ سسٹم میں گورننس، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، فنانس، اسٹوڈنٹس سپورٹ سروسز اور اکیڈمک ایکسلینس جیسے اہم اشاریے شامل کیے گئے ہیں تاکہ جامعات کی کارکردگی کا جامع اور شفاف جائزہ لیا جا سکے۔
مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات اور عالمی معیار کے مطابق اقدامات جاری رکھے گی تاکہ خیبرپختونخوا کی جامعات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہو۔