2025 کے دوران دنیا بھر میں 128 صحافی قتل

سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں کم از کم 128 صحافیوں کو قتل کیا گیا، جن میں سے نصف سے زائد ہلاکتیں مشرقِ وسطیٰ میں رپورٹ ہوئیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نہایت تشویشناک ہے اور 2024 کے بعد صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک دور کی عکاسی کرتی ہے۔

آئی ایف جے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ دنیا بھر میں صحافی برادری کے لیے ایک عالمی ریڈ الرٹ ہیں۔ تنظیم کے جنرل سیکرٹری انتھونی بیلانگر کے مطابق بعض خطے اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں، خاص طور پر غزہ جہاں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران صرف ایک سال میں 56 پیشہ ور صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انتھونی بیلانگر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار اتنے کم وقت اور محدود جغرافیائی علاقے میں صحافیوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ان کے مطابق یمن، یوکرین، سوڈان، پیرو، بھارت اور دیگر ممالک میں بھی صحافیوں کے قتل کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے قاتلوں کو ملنے والا استثنیٰ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو یہ صورتحال مجرموں کو مزید تقویت دے گی اور آزادیٔ صحافت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

تنظیم نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 533 صحافی قید ہیں، جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ چین ایک بار پھر ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں سب سے زیادہ صحافی جیلوں میں بند ہیں، جن کی تعداد 143 بتائی گئی ہے۔

اسی طرح ہانگ کانگ میں بھی صحافیوں کے لیے حالات تشویشناک ہیں، جہاں اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کے قوانین کے نفاذ پر مغربی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

آئی ایف جے کے مطابق ان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز سے مختلف ہیں کیونکہ دونوں تنظیموں کے شمار کے طریقۂ کار میں فرق ہے۔ رواں سال ہلاک ہونے والے صحافیوں میں نو ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی موت مختلف حادثات کے باعث ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے