وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ: خیبر پختونخوا میں تمام افغان مہاجر کیمپ ختم کرنے کا حکم

ریاض حسین | پشاور – 16 اکتوبر 2025

وفاقی وزارتِ سیفران (SAFRON) نے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت خیبر پختونخوا (کے پی) میں موجود تمام باقی افغان مہاجر کیمپوں کے مکمل خاتمے کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

یہ اقدام ان دہائیوں پر محیط مہاجر بستیوں کے خاتمے کا آخری مرحلہ ہے، جن میں 1979 میں سوویت حملے کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی گئی تھی۔

وزارتِ سیفران کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صوبے میں موجود آخری 28 افغان مہاجر کیمپ ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں پشاور کے 8، ہنگو کے 5، کوہاٹ کے 4، نوشہرہ کے 3، دیر کے 3، مردان اور صوابی کے 2، اور بونیر کا ایک کیمپ شامل ہے۔

اعلامیہ میں کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام کیمپوں کی زمینیں اور غیر منقولہ جائیدادیں فوری طور پر خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کی جائیں۔ “کیمپوں سے متعلق تمام منقولہ اثاثے بھی صوبائی حکام کو منتقل کیے جائیں گے،” اعلامیہ میں کہا گیا ہے۔

یہ فیصلہ 13 اکتوبر 2025 کو جاری ہونے والی وزارتِ سیفران کی ایک سابقہ ہدایت کے تسلسل میں کیا گیا ہے، جس میں ابتدائی مرحلے میں دس کیمپوں کے خاتمے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان سفارتی کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان نے غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کی کارروائی تیز کر دی ہے، جس کی وجوہات میں سیکیورٹی خدشات، سرحد پار دہشت گردی اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ شامل ہیں۔

سرکاری تخمینوں کے مطابق، اس وقت پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افغان شہری مقیم ہیں، جن میں تقریباً 13 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین شامل ہیں۔ باقی آبادی ان افغان شہریوں پر مشتمل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران غیر رسمی طور پر ملک میں داخل ہوئے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ کیمپوں کی بندش ایک “مرحلہ وار واپسی اور ازسرِنو آبادکاری منصوبے” کا حصہ ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات خاص طور پر خواتین اور بچوں جیسے کمزور طبقات پر شدید ہو سکتے ہیں، جو افغانستان میں موجود غیر یقینی صورتحال کے باعث دوبارہ انضمام میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

افغان مہاجر کیمپوں کی یہ بندش پاکستان کی چار دہائیوں پر محیط مہاجر پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اب سرحدی نظم و نسق کو معمول پر لانے اور صوبائی اراضی کو واپس حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جو پہلے مہاجر بستیوں کے لیے مختص تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے